ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لینڈ ریفارمس قانون میں ترمیم کے خلاف ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضی داخل

لینڈ ریفارمس قانون میں ترمیم کے خلاف ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضی داخل

Thu, 20 Aug 2020 11:09:57    S.O. News Service

بنگلورو،20؍اگست (ایس او نیوز) کرناٹکا لینڈ ریفارمس قانون 1961 کو نافذ کرنے ریاستی حکومت کی جانب سے جاری آرڈی نینس کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کی گئی ہے۔

باگل کوٹ ضلع کے ایک سماجی کارکن ناگراج ہونگل کی طرف سے ہائی کورٹ میں داخل رٹ عرضی میں کہاگیا ہے کہ تاریخی لینڈ ریفارمس قانون کے اصل مواد کو تبدیل کرنے والے ریاستی حکومت کے فیصلے سے اس قانون کے مقصد کی بہت بڑی ہار ہوگی۔

عرضی میں کہاگیا ہے کہ ریاست میں غیر کسان کے قبضہ میں زمین ہونا اور غیر کسان کو زرعی زمین کی خریداری پر سے عائد پابندی ہٹانا غیر قانونی ہے۔ یہ بات قانون میں واضح طور پر کہی گئی ہے۔

دراصل زمینداروں کے شکنجے سے کسانوں کو آزاد کروانے مذکورہ قانون بنایاگیا تھا لیکن اس قانون میں ترمیم کرکے حکومت کسانوں کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ دونوں کانگریس،جے ڈی ایس اور مختلف کسان انجمنوں نے اس ترمیم کی مخالفت کی ہے۔اگر اس ترمیم کو واپس نہیں لیا گیا تو ریاست گیر ا حتجاج شروع کیا جائے گا۔

آرڈی نینس اور اصل قانون میں کی گئی ترمیم واپس لینے ریاستی حکومت کو ہدایت دینے کا رٹ عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے۔


Share: