نئی دہلی، 16؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس پارٹی نے مرکز کی مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے عالمی ہنگر انڈیکس میں 116 ممالک میں 101ویں مقام پر ہونے کے باوجود، ایک طرف ملک کا کسان گیہوں پر موسم کی مار برداشت کر رہا ہے اور دوسری طرف مرکز دوسرے ممالک کو گیہوں فروخت کر کے اپنی جھوٹی شبیہ کا پیٹ بھرنے میں مصروف ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجےوالا نے ٹوئٹ کیا، ’’ہندوستان عالمی ہنگر انڈیکس میں 101ویں مقام، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال سے بھی نیچے ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے 32 فیصد بچے غذائی قلت کے شکار ہیں، گیہوں میں 5 سے 10 کونٹل فی ایکڑ کا نقصان ہو گیا، آمدنی دوگنی نہیں ہوئی اور مرکز اپنی جھوٹی شبیہ کا پیٹ بھرنے میں مصروف ہے۔‘‘
ایک دیگر ٹوئٹ میں سرجے والا نے کہا، ’’ایک طرف ملک کا کسان گیہوں پر موسم کی مار برداشت کر رہا ہے، مودی حکومت کی عدم توجہی کے سبب فی ایکڑ 10 ہزار روپے کا نقصان جھیل رہا ہے، دوسری طرف نجی کمپنیوں کو منافع فراہم کرنے والی مودی حکومت ہمارا گیہوں دوسرے ممالک کو فروخت کر کے اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے، لیکن کسان کے مقصان کی تلافی کس طرح سے ہوگی؟‘‘
خیال رہے کہ سالانہ جاری ہونے والے عالمی ہنگر انڈیکس کی تازہ 2021 کی درجہ بندی کے مطابق 116 ممالک کی فہرست میں ہندوستان 101 ویں مقام پر ہے۔ اس درجہ بندی میں ہندوستانی اپنے ہم سایہ ممالک میانمار (71)، پاکستان (92)، بنگلہ دیش (76) اور نیپال (76) سے بھی نیچے ہے۔ 2020 میں ہندوستان 117 ممالک میں 94ویں مقام پر تھا یعنی ایک سال میں ہندوستان کی درجہ بندی میں 7 مقام گر گیا۔