بنگلورو28/دسمبر(ایس او نیوز) کانگریسی لیڈر اور سابق وزیر ڈی کے شیوکمار کو کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر کے طور پر نامزد کیے جانے کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔ بعض ذرائع سے ملی خبر کے مطابق پارٹی ہائی کمان کی جانب سے اس ضمن میں دو ایک دن کے اندرفیصلہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں کانگریس امیدواروں کو بری طرح شکست ہونے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے حزب اختلاف کے لیڈر اور دنیش گنڈو راؤ نے کے پی سی سی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔کانگریس پارٹی کو پندر ہ میں سے صرف دو نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔
شیوکمار کو ریاستی کانگریس کاصدر بنائے جانے کی خبر عام ہوتے ہی بر سر اقتداربی جے پی نے شیو کمار کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ شیوکمارسماج کے ایک مخصوص طبقے کی خوشامد کرنے میں لگے ہیں۔یاد رہے کہ دو تین دن قبل ہی ڈی کے شیو کمار نے اپنے حلقہ کنکاپورا میں عیسیٰ کا ایک ایسا مجسمہ نصب کرنے کے لئے سنگ بنیاد رکھا ہے جو دنیا میں سب بلند ترین مجسمہ ہوگا۔شیو کمار پر طنز اور اعتراضات کی بوچھاڑ کرنے والوں میں بی جے پی کے وزیر ایشورپا، ایس سریش کمار، رنیو کا اچاریہ، اننت کمار ہیگڈے اور پرتاپ سنہا شامل ہیں۔
ان اعتراضات کے جواب میں شیو کمار نے کہا ہے کہ اپنے حلقے میں موجود تمام لوگوں کو عقائد، مذاہب اور جذبات کا احترام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”مجسمے کے لئے میں زمین کی قیمت اپنی جیب سے ادا کی ہے۔اس لئے کسی قسم کے اختلاف کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ دو سال سے زمین حاصل کرنے کی تجویز تھی۔ سابق وزیراعلیٰ کمارا سوامی نے زمین کو منظور ی دی۔ رام، شیوا اور انجنیا(ہنومان) کے سیکڑوں مندر تعمیر کیے گئے ہیں۔ میں نے شہرت حاصل کرنے کے لئے یہ کام نہیں کیا ہے۔میں نے کنکا پورا میں سرکاری اسکولوں، کالجوں، انڈسٹریل انسٹی ٹیوٹس کی تعمیر کے لئے 25ایکڑ زمین عطیہ میں دی ہے۔مجھے جو کام کرناتھا میں نے کیا ہے۔“
ڈی کے شیو کمارنے واضح الفاظ میں کہا کہ مجھے ان لوگوں سے کوئی سبق سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے جو امبیڈ کر کے بنائے ہوئے دستور ہند کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔