ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہریت قانون:عوامی جذبات کو مسلمانوں سے جوڑکر دیکھنا غلط:عرفان حبیب

شہریت قانون:عوامی جذبات کو مسلمانوں سے جوڑکر دیکھنا غلط:عرفان حبیب

Sat, 28 Dec 2019 11:10:55    S.O. News Service

نئی دہلی،28/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) مورخ عرفان حبیب نے کہاکہ شہریت قانون کو لے کر حالیہ عوامی جذبات کو صرف مسلمانوں سے جوڑکر دیکھنا غلط ہوگا کیونکہ یہ قانون جدید ملک کے طورپر ہندوستان کے تصور پر اثر ڈالے گا۔حبیب نے ملک کے الگ الگ حصوں میں مظاہرین پر پولیس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ نوآبادیاتی زمانے میں بھی ہم نے اس طرح استحصال نہیں دیکھا- مخالفت کو اس طرح کچلنے کی کوشش کو لے کر لوگ کافی فکر مند ہیں کیونکہ مخالفت کا حق جمہوری سماج کا حصہ ہے -ملک میں بڑی تعداد میں ہندو اور دوسری کمیونٹی کے لوگ اس مظاہرے میں شامل ہورہے ہیں -اگر اس مظاہرے کو صرف ہندو مسلمان کے آئینے سے دیکھا جائے تو ممکنہ طورپر یہ حکمراں لوگوں کو مفید لگے گا -یہ جدوجہد ہندوستان کے بارے میں ہے اور جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں ہے - حبیب نے کہاکہ شہریت قانون کے مطابق ہندو،سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی جو مذہبی استحصال کی وجہ سے 31 دسمبر 2014 تک پاکستان، بنگلہ دیش اورافغانستان سے ہندوستان آئے انہیں غیرقانونی شہری نہیں مانا جائے گا اور انہیں ہندوستانی شہریت دی جائے گی-انہوں نے کہاکہ مودی سرکار کی حال کی کچھ پالیسیاں ہندوتوا مہم کے دیرینہ منصوبے کا حصہ ہیں جو زیادہ تر مخالفت کے استحصال کی پالیسی پر مبنی ہیں - انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں آج جو کچھ ہورہا ہے وہ بدقسمتی سے ویسا ہی ہے جیسا بٹوارے کے بعد سے پڑوسی پاکستان میں ہورہا ہے -حبیب نے کہاکہ برطانیہ پولس نے بھی مظاہرین پر ایسا غیرانسانی رخ نہیں اپنایا تھا جیسا پچھلے کچھ دنوں سے ملک کے کئی حصوں میں دیکھنے کو ملا ہے - علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 1938 میں ہوئے ایک واقعہ کا ذکرکرتے ہوئے حبیب نے کہا کہ اس وقت پرتشدد مظاہرہ ہوا اور پولس سے تصادم بھی-اس وقت کا ایس پی انگریز تھا اور مظاہرہ کے دوران اسے طلبا نے بری طرح پیٹالیکن اس کے باوجود اس نے پولس کو کیمپس میں داخل نہیں ہونے دیا کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تحمل سے کام لیا جائے -


Share: