انکولہ:یکم نومبر(ایس او نیوز) جن کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں وہی دھرم اور سنسکرتی کی باتیں کررہے ہیں،شکم سیر والوں کو بھوک سے تڑپنے والوں کی طرف دیکھ کر باتیں کرنا چاہئے ، سنسکرتی یا ثقافت صرف ایک متحرکانہ علامت ہوتی ہے، ان باتوں کا اظہارکنڑا کے مشہور شاعر، کہانی کار ،ادیب ڈاکٹر جینت کائی کنی نے کیا۔
وہ یہاں ڈاکٹر دینیکر دیسائی اسمارک پرتشٹھان انکولہ، راگھویندر پرکاشنا ٹرسٹ امبارکوڈلو کے اشتراک سے دینیکر دیسائی کی یاد میں دئیے جانے والے ’’ شاعری ایوارڈ‘‘ اور ’’معاصرانہ ادب ایوارڈ‘‘ کو ڈاکٹر ایچ ایس انوپما ہوناوراور ڈاکٹر ونیاوکند دھارواڑ ایوارڈ سے عزت بخشنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے حالیہ سیاسی نظریات کی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی تجدید سے زیادہ مندروں کی تجدید کاری ہورہی ہے، بچوں کو کوئی بھی سکیولرزم کی تعلیمات نہیں دے رہاہے ، والدین بھی اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کررہے ہیں، ہمیں ایسی خلیجوں کو پاٹنے کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شاعری دل کی دھڑکن کا نام ہے ، جو شاعری کرتے ہیں ذوق رکھتے ہیں عملی طورپر اس میدان میں سرگرم عمل ہیں وہی دل رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادیبوں کے متعلق کہاکہ کچھ لوگ اپنی خود کی تصانیف پر کوئی بھی تجزیہ اور تنقید نہ ہونے کے غم میں مبتلا رہتے ہیں، زندگی ، ادب، شاعری وہی ہوتی ہے، نئی فکر، نئے خیالات اور تخلیقی انداز اپنا کر ادیب لکھتے ہیں تو کسی تنقید یا تجزیہ کی ضرور ت نہیں ۔
دینیکر دیسائی پرتشٹھان کے صدر امبلا نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ جو روشن خیال مفکرین ، ماہرین ، دانشور ہیں صرف اسٹیج کی حد تک نہ رہیں ، ملک میں جو لوگ عدم تحمل کا شکار ہورہے ہیں ، مظلوم ہیں ان کی حمایت میں آگے آنا چاہئے۔ نوجوانوں سے اپیل کی کہ اس کام کو جاری رکھنے کے لئے نوجوان آگے آئیں۔ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ایچ ایس انوپماہوناور نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شاعری اور ادب نے مجھے عوام کے قریب پہنچایا ہے، سرمایہ دار، دھرم ، ذات پات اور مارکیٹ کی الفاظ پر حکومت ہے ،ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے نکات پر غورکریں اور حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ اور ایک ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ونیا وکند نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سرمایہ دار اور دولت مند طبقہ سنسکرتی کا وارث بن بیٹھا ہے، اسی طرح ساحلی پٹی کے حالات پر غورکریں تو ایک سوال ہمارے سامنے آتاہے کہ کیا ہم ساحلی علاقہ میں ملی جلی زندگی کوبرباد کرنے والوں درمیان جی رہے ہیں؟۔پرکاشنا کے صدر ، مشہور کنڑا ادیب، شاعر وشنو نائک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ادارے کی طرف سے کتابوں کی اشاعت روک دی گئی ہے، کیونکہ 30لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئے بغیر یو ں ہی باقی ہیں، البتہ اس کے عوض کویتانائک کی یاد میں ایوارڈ کی شروعات کی ہے۔ جی سی کالج کے پروفیسر ڈاکٹر ایس وی وسترد نے ایوارڈ یافتہ کتابوں پر روشنی ڈالی۔ شانتارام نایک نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔اس موقع پر کئی کنڑا کتابوں کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ پروگرا م میں تشٹھان کے بزرگ ممبر وی جے نایک موجود تھے۔