آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ کی ہدایت پر ایک موقر وفد نے طوفان کے سبب شہید ہوئے گنبد کا جائزہ لیا
نئی دہلی،31؍مئی (پریس ریلیز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ کی ہدایت پر آج پارٹی کے ایک موقر وفد نے دہلی کی شاہی جامع مسجد کا دورہ کیا اور طوفان کے سبب شہید ہوئے گنبد کا جائزہ لیا۔
وفد میں مجلس دہلی کے میڈیا انچارج اور ترجمان ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی، جنرل سکریٹری شاہ عالم صدیقی، پردیش سکریٹری راجیو ریاض، ریحان شیخ، بابر پور ضلع کے جنرل سکریٹری تحسین حسین،انیس احمد وغیرہ شامل تھے۔ وفد نے مسجد کی چھت پر جاکر قریب سے جائزہ لیا جس میں معلوم ہوا کہ تین حصوں پر مشتمل مرکزی گنبدکا کلس طوفان کے سبب شہید ہو گیا ہے۔ کلس کے دو حصے زمین پر آ گرے جس سے اس کا نقصان ہوا ہے جبکہ ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر لٹک گیا ہے۔
اس پر جب مجلس دہلی کے ترجمان اور میڈیا انچارج ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے شاہی امام سید احمد بخاری سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ جو حصہ ٹوٹ کر لٹک گیا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہے، اگر وہ زمین پر گرتا ہے تو اس سے برجیوں کو بھی نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے میں نے محکمہ آثار قدیمہ کو خط لکھا ہے اور انھیں حالات سے مطلع کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی مرمت کرائے گا۔
امام بخاری کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ یہ ملک کا عظیم سرمایہ ہے جس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب کلیم الحفیظ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں مرکز کی مودی حکومت اور صوبہ کی کجریوال حکومت کو اس کے لیے قصور وار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بار بار شاہی امام سید احمد بخاری نے حکومتوں کو خط لکھا اور مطالبہ کیا ہے کہ مسجد کی مرمت کی جائے ورنہ بڑا حادثہ ہو سکتا ہے باوجود اس کے آج تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔
شاہ عالم نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ شاہی جامع مسجد کی جلد از جلد مرمت کرائی جائے کیونکہ یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔اس مسجد کو 1656 میں مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کرائی تھی۔واضح رہے کہ حال ہی میں یہ خبر پھیلائی گئی دہلی وقف بورڈ مسجد کی مرمت کے لیے 50 کروڑ خرچ کرے گا لیکن اس میں صداقت نہیں ہے، یہ صرف افواہ پھیلائی گئی ہے۔اس لیے مجلس دہلی کا مطالبہ ہے کہ افواہ نہ پھیلائی جائے بلکہ سنجیدگی کے ساتھ مسجد کی مرمت کرائی جائے اور اس کا تحفظ کیا جائے۔