تروننت پورم ،29 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کیرل کے دارالحکومت تروننت پورم میں حکمراں پارٹی سی پی ایم کے دفتر پر چھاپہ مارنے پر ایک خاتون پولیس افسر کو انکوائری کا سامنا کرنا پڑا۔چھاپہ ماری کو لے کر کیرالہ کے وزیر اعلی پنرائی وجین نے بھی افسر چترا ٹریسا جان کی تنقید کی تھی۔سی ایم نے کہا تھا کہ کچھ ذاتی مفادات کی سیاست میں شامل لوگوں کی ’شبیہہ کو خراب‘ کرنے کی کوشش رہتی ہے۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے نوجوان افسر چترا ٹریسا جان کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کے احکامات جاری کیے تھے۔لیکن محکمہ جاتی تحقیقات میں انہیں کلین چٹ مل گئی ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تحقیقات میں ایسا کچھ بھی نہیں ملا کہ انہوں نے کچھ غلطی کی ہے۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ پولیس افسر نے قانونی ڈھانچے اور موجودہ قوانین کے تحت قانون ونظام کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائے تھے۔آئی پی ایس جان نے 24 جنوری کی نصف شب کو ایک کیس میں کچھ ملزمان کی تلاش میں سی پی ایم کے ضلعی دفتر پر چھاپہ مارا تھا۔جان کی قیادت میں پولیس ٹیم سی پی ایم کی نوجوان یونٹ ڈی وائی ایف آئی کے کچھ لیڈروں کی تلاش میں وہاں پہنچی تھی جو مبینہ طور پر شہر کے ایک پولیس تھانے پر پتھراؤ کے واقعہ میں ملوث تھے۔اس کے بعد پارٹی کی ضلع یونٹس کے رہنماؤں کی شکایت پر جان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ریاستی اسمبلی میں اس معاملے پر ایک رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے وجین نے کہا کہ عام طور پر ریاست میں پارٹی کے دفتروں پر ایسی چھاپہ ماری نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہاہے کہ جمہوری معاشرے میں یہ ضروری ہے کہ پارٹی دفاتر کوکام کاج کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے۔