چندی گڑھ ،12؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ کی جانب سے زرعی قوانین پر حکم ثانی تک روک لگانے کے بعد ہریانہ کے کنڈلی بارڈ رپر کسان تنظیموں کی میٹنگ جاری ہے۔
دریں اثنا ریاست کے وزیر اعلی منوہر لال نے کسانوں سے پر امن طریقے سے دھرنا ختم کرنے اور گھر لوٹ آنے کی اپیل کی ہے، جب کہ وزیراعلیٰ منوہر لال نے متنازعہ قوانین کو ملک کے لئے سود مند قرار دیا اور عدالتی فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا۔
وزیر اعلی منوہر لال نے چندی گڑھ میں میڈیا کو بتایا کہ یہ تینوں قانون پورے ملک کے لئے ہی وضع کئے گئے تھے، یہ کسانوں کے حق میں ہیں، کچھ کسان بھی اس کے حق میں تھے ، لیکن کچھ اس کی مخالفت بھی کررہے تھے۔ اب سپریم کورٹ نے پوری صورتحال کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اس پر روک لگادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اب بی جے پی پر لعن طعن بند کریں۔ اب گیند کورٹ کے پالے میں چلی گئی ہے ، اب کمیٹی بنانے کی بات کا اپنے فیصلے تک انتظار کرنا چاہئے۔ ان قوانین کو کب نافذ کرنا ہے یا نہیں۔ اگر آپ کو اس پر عمل درآمد کرنا ہے، تو اسے کیسے کرنا ہے ، ان سب چیزوں سے یقینا آگے کا راستہ ہوگا۔
منوہر لال کھٹر نے کہا کہ میری کاشتکاروں سے اپیل ہے کہ وہ اپنا دھرنا پرامن طریقے سے ختم کرکے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔