نئی دہلی،5؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز سپرٹیک کی اس عرضی کو خارج کر دیا جس میں نوئیڈا واقع 40 منزلہ ٹوئن ٹاور کو منہدم کرنے سے متعلق فیصلے پر از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے دونوں غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کرنے کے اپنے حکم میں ترمیم کرنے سے انکار کر دیا۔
کمپنی نے ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں سپریم کورٹ سے ٹاور بچانے کی اپیل کرتے ہوئے فیصلے میں ترمیم کی درخواست کی گئی تھی لیکن جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں بنچ نے ایسا کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔
واضح رہے کہ رئیل اسٹیٹ کمپنی سپر ٹیک کو 31 اگست کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا تھا جب سپریم کورٹ نے نوئیڈا میں اس کے ایک رہائشی منصوبہ میں دو 40 منزلہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی ڈویژنل بنچ نے کہا تھا کہ نوئیڈا اتھارٹی اور سپرٹیک کے درمیان ملی بھگت تھی، جب کہ نوئیڈا میں اس کے ایک پروجیکٹ میں صرف دو ٹاوروں کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی۔ ڈویژنل بنچ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’نوئیڈا اتھارٹی نے سپرٹیک کو دو اضافی 40 منزلہ ٹاوروں کی تعمیر کی اجازت دی، جو کھلے طور پر قوانین کی خلاف ورزی تھی۔‘‘ عدالت نے ہدایت دے رکھی ہے کہ 3 مہینے کے اندر اس کا انہدام ہو جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے زور دے کر کہا تھا کہ شہری علاقوں میں غیر قانونی تعمیر میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے، جو ڈیولپرس اور شہری پلاننگ افسران کے درمیان ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ عدالت کے مطابق قوانین کی اس طرح خلاف ورزی سے سخت طریقے سے نمٹا جانا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے سپر ٹیک کو دو مہینے کے اندر 12 فیصد سالانہ سود کے ساتھ جڑواں یعنی ٹوئن ٹاوروں میں اپارٹمنٹ کے خریداروں کو سبھی رقم واپس کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت عظمیٰ نے بلڈر کو ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کو 2 کروڑ روپے کی لاگت کی ادائیگی کرنے کی بھی ہدایت دی۔