نئی دہلی ،14؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پارلیمنٹ میں گزشتہ سات دن سے مسلسل جاری تعطل کے درمیان کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے آج حکومت پر بحث سے بچنے کا الزام لگایا اور دعوی کیا کہ وہ کسانوں سمیت اہم مسائل پر پارلیمنٹ میں حکومت کی جوابدہی طے کرے گی۔یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر آج اپوزیشن جماعتوں کا ڈنر ہوا جس سی پی ایم، سی پی آئی ترنمول کانگریس، بی ایس پی، ایس پی، جدیس، آر جے ڈی سمیت 20 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے حصہ لیا۔اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی۔ڈنر میں این سی پی کے شرد پوار، ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے، ایس پی کے رام گوپال یادو، بی ایس پی کے ستیش چندر مشر، آر جے ڈی سے میسا بھارتی اور تیجسوی یادو، سی پی ایم سے محمد سلیم، سی پی آئی ڈی راجہ، ڈی ایم سے کنی موجھی، اور شرد یادو وغیرہ نے حصہ لیا۔کانگریس کی جانب سے پارٹی صدر راہل گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے، غلام نبی آزاد، احمد پٹیل، اے کے انٹونی وغیرہ نے شرکت کی۔رات کے کھانے کے بعد کانگریس کے اہم ترجمان ردیپ سرجیوالا نے بتایا کہ یہ دوستی والا عشائیہ تھا۔ کانگریس کا خیال ہے کہ جہاں حکومت دیوار کھڑی کرے گی، وہی ہم دوستی، ہم آہنگی اور مل کر ساتھ چلنے کا راستہ تیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈنر سیاست کے لئے نہیں تھا۔یہ فطری ہے جہاں حکومت کی پارلیمنٹ چلانے میں دلچسپی نہیں ہے تو وہ سیاسی رہنما، جو اپنے علاقوں کے لوگوں کے مسائل کو لے کر آگاہ اور فکر مند ہیں، جب ملیں گے تو ریاست اور ملک کی سیاست پر بحث ضرور ہوگی۔سرجیوالا نے کہا کہ ان رہنماؤں کے درمیان غریبوں، نوجوانوں اور کسانوں کو لے کر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے محور پارلیمنٹ میں حکومت کی جوابدہی بات کا یقین، اس بارے میں غیر رسمی بات چیت ہونا بھی فطری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے کھانے کا ایک ہی مقصد ہے۔دوستی والے ماحول میں اپوزیشن لیڈر بیٹھ کر ذاتی اور قوم سے منسلک مسائل پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ایک سوال کے جواب میں سرجیوالا نے کہاکہ آج جب ملک کے سامنے بہت بحران ہیں۔حکومت کی ناک کے نیچے سے کروڑوں روپے لے کر فرار ہوگئے۔ہزاروں کسان سینکڑوں کلومیٹر پیدل چل کر حکومت کے پاس اپنا درد سنانے پہنچے مگرحکومت ان کی بات سن نہیں رہی۔آج جب بے روزگاری سر چڑھ کر بول رہی ہے۔بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ایسے میں اپوزیشن لیڈر، یہاں تک کہ اگر ان سے ہمارا اختلاف بھی ہوپھر بھی وہ قومی مفاد میں ان مسائل کا حل نکالنے کے لئے فکر مند ہیں۔