ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سناتن سنستھا کی دہشت گردی بے نقاب کارکنوں کے خطرناک ارادے کیمرے میں قید۔تھیٹرس اورسنیماہال نشانے پر

سناتن سنستھا کی دہشت گردی بے نقاب کارکنوں کے خطرناک ارادے کیمرے میں قید۔تھیٹرس اورسنیماہال نشانے پر

Tue, 09 Oct 2018 10:47:32    S.O. News Service

ممبئی،9؍ اکتوبر(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) مہاراشٹرا کے تھیٹر کے باہر 2008 میں بم دھماکوں میں مبینہ کردارکے معاملے میں سناتن سنستھا کے 2 کارکنوں کے حیران کن قبول نامے سامنے آئے ہیں جس سے ایک بارپھر سنسنی پھیل گئی ہے ۔ انڈیا ٹوڈے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ان دنوں کارکنوں کو کیمرے پر خود ہی دہشت گردانہ حملوں میں اپنے رول کے بارے میں بتاتے ہوئے قید کیا ہے ۔

واضح رہے کہ ماہر ہپوٹزم ڈاکٹر جینت اٹھاولے نے 1999 میں سناتن سنستھا قائم کی تھی ۔یہ تنظیم واضح طورپر روحانیت کی تعلیم دیتی ہے ۔ اپنی ویب سائٹ پر سنستھا نے لکھا ہے کہ تنظیم کا مقصد ان لوگوں کوروحانی علم دینا ہے جو سماج میں رہتے ہوئے معمولی باتوں پر برہم ہوجاتے ہیں ۔سناتن سنستھا اور اس کی شاخیں گوا اور ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی ہیں ۔ روحانی تنظیم ہونے کے باوجود سناتن سنستھا تنازع میں رہی ہے ۔ اس سنستھا کو2008 میں مہاراشٹرا میں تھیٹرس اور سنیما ہالوں کے باہر بم دھماکوں کے الزام میں مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے چارج شیٹ میں نامزد بھی کیا ہے ۔ الزام ہے کہ سناتن سنستھا نے جس طرح سے اپنی شبیہ ہندوتوا کے فروغ کے لئے پیش کی تھی وہ دراصل مبینہ طورپر دھماکے میں ملوث ہے ۔ گذشتہ کئی برسوں سے سناتن سنستھا اپنے اوپر دہشت گردانہ الزامات کو خارج کررہی ہے لیکن انڈیا ٹوڈے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ایسے ثبوت فراہم کئے ہیں جو سناتن سنستھا کے ممکنہ رول کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔

واضح رہے کہ 7سال قبل منگیش نکم کو ٹرائل کورٹ نے تھانے، پنویل اورواشی میں 2008 میں بم دھماکوں سے جڑے کیس سے بری کردیا تھا لیکن اب نکم نے خود کیمرے پر قبول کیا ہے کہ اس نے دھماکے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پولیس ریکارڈ میں سنستھا رکن کے طورپر درج 45 سالہ نکم نے تسلیم کیا ہے کہ جو بم ڈسپوزل اسکوائڈ نے ناکارہ کردیا تھا اسے اس نے ہی نصب کیا تھا ۔نکم کے مطابق سنستھا کے حساب سے واشی تھیٹر میں ایک مراٹھی ناٹک میں ہندودیوی دیوتاؤں کی غلط شبیہ پیش کی جارہی تھی اسی کابدلہ لینے کے لئے اس نے یہ قدم اٹھایا تھا۔نکم نے ستارا ضلع میں اپنے گھرپر انڈیا ٹوڈے کے انڈر کور رپورٹر سے کہا کہ میں واشی میں تھا تو میں نے آئی ای ڈی رکھا تھا۔ بس اس معاملے میں میرا اتنا ہی رول تھا۔ نکم نے کہاکہ واشی کیس جس میں ہم شامل تھے وہاں لوگ ناٹک میں ہمارے دیوی دیوتاؤں کی توہین کررہے تھے اسے بند کرانے کے لئے ہم نے کوشش کی تھی ۔اس کے آگے کچھ بھی نہیں۔ رپورٹر نے جب پوچھا کہ آپ اس معاملے میں ملوث تھے تو نکم نے کہاکہ ’’ہاں میں تھا‘‘نکم نے کہا کہ ہم نے ناٹک بند کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا تھا لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ نکم نے یہ بھی کہاکہ میں 2000 سے سناتن سنستھا نے جڑا ہوں اور پنویل آشرم میں اس کا آنا جانا ہے وہیں میری ملاقات کئی لوگوں سے ہوئی۔ نکم نے قبول کیا کہ حملے کے منصوبے پر عمل مہاراشٹرا کے پنویل میں واقع سنستھا کے مرکز پر ہواتھا لیکن نکم سناتن سنستھا سے اکیلا شخص نہیں ہے جس نے دہشت گردانہ منصوبے میں اپنے رول کو تسلیم کیا ہو۔ 58 سالہ ہری بھاؤ کرشنا دیویکر بھی سناتن سنستھا کارکن ہے جس نے قبول کیا ہے کہ 2000 کے بم دھماکوں میں اس کا اہم رول تھا۔ جس کے لئے فریق استغاثہ اسے مجرم ٹھہرانے میں ناکام رہا۔ اے ٹی ایس چارج شیٹ کے مطابق دیویکر کیس کے دوملزموں میں سے ایک کا بہت قریبی رہا ہے حالانکہ حملے کے 3سال بعد ناکافی ثبوت کی بناء پروہ بری ہوگیا تھا۔رائے گڑھ میں اپنے گھر میں انڈیا ٹوڈے ایس آئی ٹی کے کور رپورٹر کے سامنے دیویکر نے مانا کہ اس نے اپنے پاس دھماکہ خیز مادہ رکھا تھا جس کا ذکر اے ٹی ایس نے چارج شیٹ میں بھی کیا تھا۔

دیویکر نے کہا کہ پولیس نے جب میرے گھرپر چھاپہ مارا تو ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اسے ہم نے دے دیا۔ رپورٹر کے سوال پر کہ آپ نے انہیں کیا کیا سونپا اورانہیں کیا ملا اس پر دیویکر نے کہا کہ اس وقت 2 ریوالور تھے ۔23 ڈیٹونیٹر 20 سے زائد ڈیجیٹل میٹرس سونپے۔اے ٹی ایس چارج شیٹ کے مطابق جنوری 2008 سے جون 2008 کے درمیان 6 مشتبہ لوگوں نے دھماکوں کے ذریعہ دہشت گردی پھیلانے کی سازش رچی تھی ان میں رمیش ہنومنت اورگڈکری ،منگیش دنکر نکم ،وکرم ونے بھاوے، سنتوش سیتارام آنگرے، ہری بھاؤ کرشن دیویکر اور ہیمنت تکارام چانکے کو نامزدکیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ان لوگوں کے نشانے پر وہ تھیٹرس تھے جو مراٹھی ناٹک دکھارہے تھے اورجہاں بالی ووڈ فلم جودھااکبر کو دکھایا جارہاتھا۔ 2011 میں ٹرائل کورٹ نے گڈکری اوربھاوے کو قصوروار ٹھہرایا جبکہ دیگر 4کو بری کردیا تھا۔


Share: