ہبلی24اپریل(ایس او نیوز) آنے والے 12 مئی کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آج آخری دن کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدرامیا نے بادامی پہنچ کر پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ وزیراعلیٰ کے بادامی میں انتخابات میں کھڑے ہونے پر بی جے پی نے یہاں ان کا مقابلہ کرنے اس حلقہ کے رکن پارلیمان اور درج فہرست اور قبائلی لیڈر بی سری راملو کو میدان میں اُتارا ہے۔ بی راملو کا بھی یہ دوسرا حلقہ ہے اس سے قبل وہ ملکل مورو حلقہ سے بھی اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرچکے ہیں۔
سدرامیا نے آج چتردرگہ ضلع کے بادامی پہنچتے ہی پہلے مندر جاکر پوجا کی پھر ایک روڈ شو کرتے ہوئے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔
اس موقع پر اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سدرامیا نے رائے دہندوں پر یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ان کے خلاف کون امیدوار کھڑا ہورہا ہے۔ہبلی ائیرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے عوام چاہتے تھے کہ وہ حلقے بادامی سے مقابلہ کریں ، اسی لئے وہ اس حلقے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
کانگریسی لیڈران کے مکانوں پر ہوئے چھاپوں کے تعلق سے سدرامیا نے بی جے پی پر الزام عائد کیا اور کہا کہ مرکز اقتدارکا غلط استعمال کر رہا ہے اور ہمارے لیڈروں کو پریشان کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں سابق وزیراعلیٰ یڈیورپا اور سابق وزیراعلیٰ جگدیش شٹر کے مکانات پر چھاپے کیوں نہیں مارے گئے ؟
واضح رہے کہ سدرامیا چامنڈیشوری حلقے سے بھی مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں جہاں سے انہوں نے پرچۂ نامزدگی داخل کردی ہے ۔ ساتھ ہی وہ بادامی حلقے سے بھی قسمت آزمائیں گے۔