ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سدرامیا نے ریاستی حکومت کوگرانے کا ذہن بنالیا ہے؟

سدرامیا نے ریاستی حکومت کوگرانے کا ذہن بنالیا ہے؟

Sat, 18 May 2019 13:27:13    S.O. News Service

بنگلورو،18/مئی(ایس او نیوز) ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس قائدین کی بیان بازیوں کے سبب دونوں پارٹیوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں کے درمیان سمجھا جارہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ اور حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا صدر کانگریس راہل گاندھی کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ کرناٹک میں اگر کانگریس جے ڈی ایس اتحاد برقرار رہا تو اگلے دس پندرہ سال تک ریاست میں کانگریس کے دوبارہ اقتدار پر آنے کی امید چھوڑ دیں۔ کہا جارہاہے کہ راہل گاندھی کی منظوری سے سدرامیا نے ریاست میں مخلوط حکومت کو گرانے کی پوری تیاری بھی کرلی ہے۔ صرف لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا انتظار ہے۔ مرکز میں اگر این ڈی اے حکومت اقتدار سے بے دخل ہوگئی تو بھی ریاست میں مخلوط حکومت کے گر جانے کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں۔ این ڈی اے حکومت آتی ہے تو بی جے پی کی طرف سے اقتدار پر قبضے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر ایسا نہیں ہوا توکانگریس یا تیسرے محاذ کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد ٹوٹ جانے کی صورت میں صدر راج نافذ کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ بتایا جا تاہے کہ راہل گاندھی سے اپنی بات چیت کے دوران سدرامیا نے کمار سوامی کے طریقہئ کار اور انتظامیہ پرسخت اعتراض کئے ہیں اور کہا ہے کہ ان کی وجہ سے ریاست میں کانگریس اراکین اسمبلی اپنے حلقوں کے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانہیں پارہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بیشتر اراکین اسمبلی کی طرف سے انہیں تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ شرط رکھی ہے کہ مخلوط حکومت کو اگر برقرار رہنا ہے تو جے ڈی ایس قیادت کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ بڑی پارٹی ہونے کے ناطے کانگریس کے پاس ہوگا اور جے ڈی ایس کا کوئی بھی لیڈر نائب وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سدرامیا کسی بھی حال میں دیوے گوڈا خاندان سے تال میل برقرار رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اپنے اقرباء میں واضح کرچکے ہیں کہ عہدہئ وزیر اعلیٰ کے بغیر اگر انہیں رہنا ہے تو اپوزیشن لیڈر بنے رہنا مناسب سمجھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سدرامیا کے حامیوں نے بار بار سدرامیا کو وزیراعلیٰ بنانے کے متعلق بیانات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ساتھ ہی جوابی حکمت عملی کے طور پر کمار سوامی بھی بجز سدرامیا دیگر لیڈروں کے نام عہدہئ وزیراعلیٰ کے لئے آگے بڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ریاست میں پانچ سال تک اگر کانگریس جے ڈی ایس اتحاد برقرار رہاتو اگلے اسمبلی انتخابات میں ریاست میں جو اقتدار مخالف لہر چلے گی کانگریس اس لہر میں ختم ہوسکتی ہے۔ کانگریس کے وجود کو بچانے کے لئے سدرامیا نے رائے دی ہے کہ بہتر ہے کہ کانگریس اگلے دو تین سالوں تک اپوزیشن میں ہی رہ جائے اور اس مدت میں بنیاد ی سطحوں پر پارٹی کو اس قدر مضبوط کیا جائے کہ وہ اپنے بل پر ریاست کا اقتدار حاصل کرسکے۔ باخبر ذرائع کے مطابق صدر کانگریس راہل گاندھی کے علاوہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال بھی سدرامیا کے ان مشوروں سے متفق ہیں۔ لیکن راہل گاندھی نے مشورہ دیا ہے کہ جب تک لوک سبھا انتخابات کے نتائج منظر عام پر نہیں آجاتے اور مرکز میں حکومت کا قیام نہیں ہوجاتا اس وقت تک کوئی جلد بازی نہ کی جائے۔


Share: