بنگلورو؍منڈیا،11؍اکتوبر(ایس او نیوز) مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے زرعی مخالف قانون کے خلاف احتجاج کا آغاز کانگریس نے آج کرناٹک سے کیا ہے۔
کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے منڈیا میں کے پی سی سی کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے حق میں اور زرعی ترمیمی قانون کے خلاف کئے جارہے احتجاج میں شرکت کرنے اے آئی سی سی جواں سال قائد راہل گاندھی اگلے ماہ کرناٹک آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں کسانوں کی کوئی ذات اور دھرم نہیں ہوتا، ملک کے تمام کسان متحد ہو کر اس زرعی مخالف قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس ملک کو اناج فراہم کرنے والے کسانوں کے مفاد میں کانگریس اپنے احتجاج کو جاری رکھے گی۔ انہو ں نے کہا کہ اس ملک کی زمین کی حفاظت کرنے اور کسان برادری اور ان کی اگلی نسل کے مفادات کا تحفظ کرنے کانگریس لیڈر یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ کانگریس پارٹی یہاں سیاست کرنے نہیں بلکہ کسانوں کے مفادات کے لئے پہنچی ہے۔ اس کی ایک تاریخ لکھی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تقریر کرنے کا موقع نہیں ہے۔یہاں تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔کسانوں کو تنخواہ نہیں، ترقی نہیں،رشوت نہیں ملتی، اس کے باوجود کسان ہم سب کا تحفظ کرتے ہیں۔شیوکمار نے کہا کہ پچھلے 60تا 70 برسوں سے کانگریس نے اس ملک پر حکمرانی کی۔ ہم نے کبھی بھی نہیں کہا کہ اس دوران ہم نے سب کچھ ٹھیک کیا۔ہم نے بھی کئی غلطیاں کی ہیں لیکن وقتاً فوقتاً ان غلطیوں کو ہم نے سدھارا بھی ہے۔عوام اور کسانوں کے مفادات کا پاس رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً ہم نے قوانین میں ترمیم کی ہے۔
اب وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے جو زرعی قانون میں ترمیم کی ہے اس سے صرف چند مالدار کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ ہوگا۔ بشمول دہلی میں موجود چند مالدار کے علاوہ اس ملک کے ایک سو مالدار اس ملک پر حکومت کرناچاہتے ہیں اور مودی حکومت ان کے لئے راہ ہموار کررہی ہے۔ اس صورتحال میں اس ملک کے عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ لوگ اس وقت اپنے گھرو ں کا کرایہ تک ادا نہیں کرپارہے ہیں، کورونا کے اس ماحول میں کسانوں کی زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ان حالات میں حکومت ترمیمی زرعی قانون منظور کرکے کسانوں کا استحصال کررہی ہے اور کسانوں کو گاجر فی کلو 2روپئے اور انگور فی کلو5روپئے میں فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ان حالات میں کسانوں کی مدد کرنے حکومت آگے نہیں آرہی اور حکومت کسانوں کی پیداوار کی تائیدی قیمت بھی ادا نہیں کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے گرین شال اپنے کندھے پر ڈال کر کسانوں کا تحفظ کرنے کی قسم کھائی تھی لیکن اب ان سے کسانوں کا تحفظ کرناممکن نہیں۔ کیا ایسی حکومت ہمیں چاہئے؟ ایسی حکومت کو کسانوں کی تائید کیو ں ملنی چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے قومی قائد راہل گاندھی کسانوں کے اس احتجاج میں اگلے ماہ حصہ لے کر کسانوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اس احتجاجی اجلاس میں کانگریس کے کئی سینئر لیڈروں نے بھی حصہ لیا۔