شکاری پور 28/اپریل (ایس او نیوز/پریس ریلیز) بروز جمعہ ۲۷؍اپریل ۲۰۱۸ء کو زبیدہ کالج کیمپس شکاری پور، شیموگہ میں متعلم معلمات نے اپنی انجمن ’’انجمن زبیدہ‘‘ کے تحت ایک شاندار سالانہ جشن کا انعقاد کیا، جس کا افتتاح اور صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے ادا کیے۔
اس موقع پر متعلم معلمات نے بہت ہی خوبصورت ادبی و ثقافتی پروگرام پیش کیے اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔متعلم معلمات کی ادب دوستی، زبان دانی، تعلیم و تعلم میں دلچسپی اور تدریسی امور کی انجام دہی اور اپنے شعراء و ادبا کی خدمات کی تفہیم اور ان کے مقام و مرتبے کے تعین کی کوششوں کو دیکھ کر ہر علم دوست انسان نے زبیدہ کی متعلم معلمات کی تعریف کی اور کالج و ادارہ کے بانی ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی سرپرستی اور متعلم معلمات کو علمی و ادبی اعتبار سے تیار کرنے کی ان کی کاوشوں کی بے حد ستائش کی۔
بہ حیثیت مہمان کے شرکت فرما علم و ادب کی اہم شخصیات پروفیسر سید شاہ مدار عقیل، جناب شاد باگل کوٹی، ڈاکٹر سید ثناء اللہ، ڈاکٹر بی محمدداؤد محسن، ڈاکٹر علیم اللہ علیم، ڈاکٹر شبینہ طلعت اور آندھرا سے تشریف لائے ہوئے مہمانان گرامی جناب فیاض اللہ کدری، جناب دلدار کدری، اور جناب ملک کدری وغیرہ نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی اور اس کے تربیتی کالج اور اس کالج میں دی جانے والی ادبی و علمی اور تدریسی تربیت کو بے حد سراہا اور کہا کہ اگر ریاست کرناٹک کے بیس فی صد ادارے اور کالج بھی اس راستے پر چل پڑیں تو اردو زبان و ادب کو ایک نئی زندگی مل جائے گی۔ زبیدہ کی متعلم معلمات نے اپنے سالانہ جشن کو علمی و ادبی اقدار کے پاسبان کی شکل میں پیش کرتے ہوئے ریاستی سطح کے ایک شخصی سیمینار ’’شاد باگل کوٹی کی شخصیت اور ادبی خدمات‘‘ کے اعتراف کے لیے مختص کیاتھا۔ اس سیمینار کے محرک و معارف حافظؔ کرناٹکی تھے۔ اس سیمینار کا افتتاح ڈاکٹر سیدثناء اللہ نے کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی دونئی کتابوں ’’ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام‘‘ اور ’’ نیتاجی سبھاش چندر بوس‘‘ کا اجرا ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن (رکن قومی کونسل دہلی )نے کیا۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ان دونوں ہستیوں کے بارے میں تمام معلومات کو ایک چھوٹی سی کتاب میں اس طرح جمع کردیا ہے کہ گاگر میں ساگر کو سمیٹنے کا محاورہ سچ ہوگیا ہے۔اس طرح کی کتابوں کی سخت ضرورت ہے۔
سیمینار میں پروفیسر سید شاہ مدار عقیل نے بہت ہی جامع کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اور صدارت کے فرائض ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے ادا کیے۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبینہ طلعت نے اداکیے۔ سید ثناء اللہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ شاد باگل کوٹی صاحب ایک بزرگ شاعر ہیں۔ وہ جس پایہ کہ شاعر ہیں اسی پایہ کے انسان بھی ہیں۔ نہ وہ اپنی شاعری اور ادبی کاوشوں کی نمائش پر یقین رکھتے ہیں اور نہ اپنی شخصیت کو خواہ مخواہ نمایاں کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں وہ نہایت شریف اور منکسر المزاج انسان مگر دو ہاکے بہت ہی عمدہ اور بڑے شاعر ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف ایک سچے شاعر کی خدمت کا اعتراف ہے۔
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ شاد باگل کوٹی صاحب بزرگ اور استاد شاعر ہیں۔ ادب سے ان کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ وہ نظمیں اور غزلیں بھی کہتے ہیں۔ ترجمہ نگاری سے بھی ان کو دلچسپی ہے۔ مگر وہ دوہا نگارکی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ اور پوری اردو دنیا میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ مجھے ایک عرصے سے اس بات کا احساس رہا ہے کہ ہمارے آس پاس جو شاعر و ادیب ہیں، ان کی خدمات کا خاطر خواہ اعتراف نہیں ہوپاتا ہے۔ اور نہ ان کی خدمات سے اردو دنیا ٹھیک سے واقف ہو پاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ جہاں ہمارے فنکاروں کا انکسار اور عدم خود اعتمادی ہے، وہیں اردو دنیا تک ان کی نارسائی بھی ہے۔ انہیں وجوہات کی بنا پر میں نے ’’انجمن اطفال کرناٹک‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اور ایک عرصہ تک اس کے بینر تلے ادب اطفال اور دیگر ادب اور ادیبوں کی خدمات کے اعتراف کی صورت پیدا کی۔ پھر کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کی بنیاد ڈالی۔ نام سے ایسا لگتا ہے کہ اس اکادمی کا کام بھی صرف بچوں کے ادب تک محدود ہے۔ مگر اس پلیٹ فارم سے بھی ہم نے کئی ادیب و شاعر کی خدمات کے اعتراف کی راہ نکالی۔ اس کے علاوہ زبیدہ ڈی ایڈ کالج کی انجمن کے تحت بھی ہم نے متعلّم معلمات کی تربیت کی غرض سے ادب کے فروغ کی کوششیں کیں۔ جس میں متعلّم معلمات اور اساتذہ نے اپنی بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور میں نے اس پلیٹ فارم سے بھی ادبا و شعرا کی خدمات کے اعتراف کا سلسلہ شروع کیا۔ اس بارشاد باگل کوٹی صاحب کی خدمات کے اعتراف کا اہتمام کیا۔ظاہر ہے کہ کسی بھی فنکار کی خدمات کے اعتراف کا اس طرح کے مختصر جلسوں سے حق ادا نہیں ہوجاتا ہے۔ مگر صحرا میں پھول کھلانے کی اس طرح کی ہر کوشش قابل صد مبارکباد ہے۔
پروفیسر سید شاہ مدار عقیل صاحب نے شاد باگل کوٹی صاحب کے ساتھ اپنے چالیس سالہ دوستانہ رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے ان تخلیقی لمحوں سے بھی سامعین کو واقف کرایا جو فنکار کا تجربہ اور ایک دوست کا مشاہدہ تھا۔ انہوں نے شاد باگل کوٹی کی ترجمہ نگاری پر بھی روشنی ڈالی اور دوسری اصناف شاعری سے ان کی دلچسپی کا بھی ذکر کیا۔ اور یہ بھی کہا کہ شاد باگل کوٹی کے پایہ کا دوہا نگار اردو زبان و ادب میں معدودے چند ہی نکل سکیں گے۔
ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن (رکن قومی کونسل دہلی )نے کہاکہ شاد باگل کوٹی صاحب کی دوہا نگاری آج اردو دنیا میں آپ ہی اپنی مثال ہے۔ وہ جس پایہ کے دو ہانگار ہیں اس پایہ کا دوسرا شاعر ریاست تو کیا پوری اردو دنیا میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے دوہوں میں بڑی سادگی ہے، جو دلوں پر اثر کرتی ہے۔
ڈاکٹر علیم اللہ علیم نے اپنے خاکہ نما مضمون میں جناب شاد باگل کوٹی کی شخصیت اور ظاہری خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی باطنی خوبیوں کو بھی الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی اور اپنے مضمون نما خاکے کو اس خوب صورتی سے پیش کیا کہ شاعر کا خاکہ اور ان کی شخصیت کا ہر پہلو روشن نظر آنے لگا۔
ڈاکٹر شبینہ طلعت نے حضرت شاد باگل کوٹی کے دوہوں میں برتے جانے والے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شاد باگل کوٹی صاحب ایسے باکمال شاعر ہیں کہ وہ کسی بھی موضوع کو اپنے دوہے میں دوہے کی مٹی کی بوباس کے ساتھ پیش کرکے لوگوں کو حیران کردیتے ہیں۔
اخیر میں ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دوہا دراصل نیچرکی پیداوار ہے۔ اس نیچر یا اس فطرت کی جو انسان اور انسانی زندگی کا خمیرہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوہا نگاری میں وہی لوگ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو نیچر کے رنگ اس کی خوشبو، اس کی معصومیت اور اس کی شفافیت سے آگاہ ہوتے ہیں اور چوں کہ شاد باگل کوٹی صاحب نیچر کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کی الائش میں طہارت کے رنگ کو زندہ جاوید دیکھنے والی آنکھوں کے مالک ہیں۔ اسی لیے وہ دوہا نگاری کے میدان میں کامیاب ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دوہا واحد ایسی صنف شاعری ہے جو نیچر کے نافے سے خوشبو کی طرح پھوٹتی ہے۔ جبکہ بقیہ تمام اصناف شاعری کلچر کی پیداوار ہیں۔ نیچر کھردرا اور سادہ ہوتا ہے۔ اور کلچر چمکدار اور روشن ہوتا ہے۔ اس لیے نیچر کو اپنی شاعری کی گرفت میں لانا آسان نہیں ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے ہمیں بہت پیچھے اور اپنے بہت اندر جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ ہم آج دوہاکے ایک بڑے شاعر کے ساتھ اس مجلس کا حصّہ بن رہے ہیں۔
موقع کی مناسبت سے شام میں ایک خوب صورت مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نوخیز شعرا نے اردو کے اہم شعرا کے ساتھ اپنا کلام سنایا۔ اس مشاعرے کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ادا کیے۔ نظامت کے فرائض ہائی اسکول کی آٹھویں جماعت کی طالب علم تنزیلہ نے ادا کیے۔ اس مشاعرے میں سینئر شعرا میں پروفیسر شاہ مدار عقیل، جناب شاد باگل کوٹی، جناب بی محمدداؤد محسن، جناب علیم اللہ علیم، جناب راحت حرارت، جناب سید ظہیر احمد فنا، ڈاکٹر شبینہ طلعت، جناب مجاہد خان مجاہد، اور جناب ارقم مظہری نے اپنا کلام سنایا تو نوخیز شعرا میں چاچا شکاری پوری، انکل شکاری پوری، ماما شکاری پوری، مسکان، شائستہ، افغان شمع، رضیہ سلطانہ، ایم غوثیہ غزالہ، امرین عظمیٰ، گڑبڑ آفرین، امریہ انجم، سمیہ بیگم، نسیمہ چھم چھم، اور سمیہ تاج نے اپنا کلام سنایا۔ یہ سارے بچے اور بچیاں ہائی اسکول اور زبیدہ ڈی، ایڈ کالج کے طالب علم ہیں۔ جو ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی تخلیق کردہ فضا میں اپنے آپ زبان و ادب اور شعرو ادب کے گیسوائے گرہ گیر کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔ انجمن زبیدہ کے تحت متعلم معلمات نے شاد باگل کوٹی کی خدمت میں ’’کبیرداس‘‘ ایوارڈ بھی پیش کیا۔
ثقافتی پروگرام کی نظامت کے فرائض سینئر لکچرر سیما کوثرنے ادا کیے تو سیمینار کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبینہ طلعت نے ادا کیے۔ سینئر لکچررجناب مجاہد اللہ خان نے سالانہ رپورٹ پیش کی ،یہ سالانہ جشن جو علم و ادب، تعلیم و تعلم اور شعر و سخن کا حسین سنگم تھا۔ محترم نظراللہ مڈی کے شکریہ کے ساتھ نہایت کامیابی سے اختتام کو پہونچا۔ اس سالانہ جشن کو کامیاب بنانے میں انیس الرحمن ،جناب این اے،مڈی، جناب مجاہد اللہ خان، سیما کوثر، مبین پروین، پاٹل، کالنگاراؤ، سمیع اللہ عاقل، جناب حافظ ناصر اور جناب عارف اللہ وغیرہ نے خصوصی تعاون دیا۔