ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست نہیں ہو سکتی دہلی، ایل جی کے پاس آزادانہ حق نہیں: سپریم کورٹ

ریاست نہیں ہو سکتی دہلی، ایل جی کے پاس آزادانہ حق نہیں: سپریم کورٹ

Thu, 05 Jul 2018 11:26:05    S.O. News Service

نئی دہلی 5جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک اہم فیصلے میں متفقہ طور پر کہا کہ دہلی کو ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے لیفٹیننٹ گورنر کے حقوق یہ کہتے ہوئے کم کر دیئے کہ انہیں فیصلے کرنے کا کوئی آزاد انہ حق بھی نہیں ہے اور انہیں منتخب حکومت کی مدد اور مشورہ سے ہی کام کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والے پانچ رکنی آئینی بنچ نے قومی دارالحکومت کے انتظام و انصرام کیلئے وسیع پیمانہ مقرر کر دیا ہے۔ دہلی میں 2014 میں عام آدمی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان حقوق کو لے کر تیکھی جنگ چھڑی ہوئی تھی ۔اس دوران دو لیفٹیننٹ گورنر۔انل بیجل اور ان سے پہلے نجیب جنگ کے ساتھ وزیر اعلی اروند کجریوال کا تصادم ہوتا رہا ہے۔

کجریوال دونوں پر مرکز کے اشارے پر ان کی حکومت کے کام میں مانعات اور اڑچن ڈالنے کے الزام لگاتے رہے ہیں۔چیف جسٹس دیپک مشرا نے اپنی اور جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی جانب سے لکھے 237 صفحے کے فیصلے میں کہا کہ یہ مکمل طور پر صاف ہے کہ کسی طرح بھی قومی دارالحکومت خطہ دہلی کو آئین کے موجودہ نظام کے تحت ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قومی دارالحکومت علاقہ دہلی کا ایک مخصوص درجہ ہے اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کا عہدہ ریاست کے گورنر جیسا نہیں ہے۔فیصلے میں آئینی شق کے تحت یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس میں غیر سماجی عناصر کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

آئینی بنچ کے فیصلے میں دہلی کے حقوق اور اس درجے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 239 اے اے کی تشریح سے متعلق دلچسپ سوالات کا بھی جواب دیا گیا جنہیں لے کر دہلی حکومت اور مرکز کے درمیان جنگ چھڑی تھی اور جن پر اب دو تین ججوں کا بنچ غور کرے گا۔بنچ نے ان آئینی دفعات پر اپنی رائے دی جنہیں چھوٹے بنچ نے اس کے پاس بھیجا تھا۔ آئینی بنچ نے کہا کہ اب دہلی ہائی کورٹ کے چھ اگست 2016 کے فیصلے کے خلاف دائر تمام اپیلیں باقاعدہ مناسب بنچ کے سامنے سماعت کے لیے درج ہوں گی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر دہلی کے انتظامی سربراہ ہیں۔

آئین بنچ نے کہا کہ اگرچہ لیفٹیننٹ گورنر محض نام کے سربراہ نہیں ہیں، ان کے رویے سے ایسا نہیں لگنا چاہئے کہ کابینہ کے تئیں ان کا ایک مخالف جیسا رویہ ہے، بلکہ ان کا رویہ سہولیات مہیا کرانے والا ہونا چاہئے۔عدالت نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو فیصلہ کرنے کا کوئی آزاد حق نہیں دیا گیا ہے۔ انہیں یا تو کابینہ کی مدد اور مشورہ سے کام کرنا ہوگا یا پھر وہ صدرجمہوریہ کے پاس ان کی طرف سے بھیجے گئے کیس میں لئے گئے فیصلے کو لاگو کرنے کے لئے پابند ہیں۔ 


Share: