بنگلورو،28؍ جون (ایس او نیوز) جنتادل سکیولر کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا، وزیر اعلیٰ کمار سوامی اور ان کے بیٹے نکھل کمار سوامی کے خلاف فیس بک پر بد زبانی کرنے والے شخص کی گرفتاری کو لے کر ہائی کورٹ نے ریاستی پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس کارروائی کو عدالت عظمیٰ کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جسٹس پی ایس دنیش کمار نے اڈوکیٹ جنرل ادئے ہوراسے کہا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرکے پولیس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ریاست میں پولیس راج قائم ہے۔ عدالت نے بتایا ہے کہ فیس بک پیج کے ایڈمنسٹریٹر جئے کانت جو پیشہ سے ایک انجینئر ہیں کو سیشن کورٹ نے قبل از گرفتار ی ضمانت کو منظور کرنے کے باوجود ایک دوسری شکایت کے تحت اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ جئے کانت کو فوری رہا کرکے عدالت کے رجسٹرار جنرل کو اس کی اطلاع دیں۔ غیر فوجداری معاملات میں پولیس کی مداخلت پر عدالت نے کہا ہے کہ اگر پولیس اسی طرح عام آدمیوں پر ظلم کرتی رہے گی تو ان کا سڑکوں پر چلنا پھرنا مشکل ہوجائے گا۔ اڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت کبھی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گی اور عام آدمیوں کی نجی آزادی میں خلل نہیں ڈالے گی۔ 26/ مئی کو جے ڈی ایس کے جنرل سکریٹری پردیپ کمار کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس ضمن میں 23/ جون کو دوسری ایف آئی آر درج کی گئی، 10/جون کو سیشن کورٹ نے ضمانت منظور کی تھی۔ جئے کانت ضمانت کی ایک کاپی لے کر 17/ جون کو سری رام پور پولیس تھانے کو دیا تھا۔ جہاں اسے دن بھر بٹھا کر اگلے دن آنے کے لئے کہا گیا۔