ئی دہلی،30 اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات 2019 کے درمیان راہل گاندھی کی شہریت پر ایک بار پھر تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ غیر ملکی شہریت کی شکایت پر راہل گاندھی کو ملے مرکز کے نوٹس پر کانگریس نے مودی حکومت پر جوابی حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالا مرکز کے نوٹس پر کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ راہل گاندھی پیدائشی ہندوستانی شہری ہیں۔ مودی جی کے پاس روزگار، کسانوں کے مسائل، زراعتی بحران اور کالے دھن پر کوئی جواب نہیں ہے، اسی لیے مودی جی ایسا کرکے توجہ کو بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت کے نوٹس کے ذریعے فرضی کہانی کا سہارا لے رہے ہیں۔ بتا دیں کہ وزارت کی طرف سے جاری نوٹس میں راہل گاندھی کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریت کو لے کر شکایت پر اپنی اصل صورت حال 15 دن کے اندر براہ مہربانی بتائیں۔بتا دیں کہ مرکز نے راہل گاندھی کونوٹس بی جے پی رہنما سبرامنیم کی شکایت پر کی ہے جو کئی سالوں سے الزام لگا رہے ہیں کہ کانگریس صدر کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔وزارت داخلہ میں ڈائریکٹر (شہریت) بی ایس جوشی کی طرف سے جاری خط میں کہا گیا ہیکہ مجھے یہ کہنے کی ہدایت موصول ہوئی ہے کہ اس وزارت کو ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی جانب سے ایک شکایت موصول ہوئی ہے جس میں معلومات دی گئی ہے کہ بیک آپس لمیٹڈ نامی کمپنی کو سال 2003 میں برطانیہ میں رجسٹر کی گئی تھی جس کا پتہ 51 ساؤتھ گیٹ،اسٹریٹ، ویچیسٹر،ہیمپشرSO23 9EHتھا، اور آپ اس ڈائریکٹرز میں سے ایک اور سیکرٹری تھے۔حط میں مزید لکھا گیا ہیکہ شکایت میں یہ بھی معلومات دی گئی ہے کہ 10 اکتوبر، 2005 اور 31 اکتوبر، 2006 کو داخل کی گئی کمپنی کی سالانہ ریٹرن میں تاریخ پیدائش 19 جون، 1970 بتائی گئی ہے، اور آپ نے اپنی شہریت برطانوی بتائی ہے۔ بتا دیں کہ سات مراحل میں ہو رہے لوک سبھا انتخابات 2019 میں راہل گاندھی اتر پردیش کی امیٹھی اور کیرالہ کی وایناڈ لوک سبھا سیٹوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔شکایت کے مطابق، 17 فروری، 2009 کو دی گئی کمپنی کی ڈسلیوشن عرضی میں بھی راہل گاندھی کی شہریت برطانوی بتائی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے کہا ہیکہ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں صحیح صورت حال سے اس خط کے ملنے کے ایک ہفتے کے اندروزارت کو آگاہ کرائیں۔دراصل گاندھی خاندان کے ناقدین میں سے رہے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے یہ الزام سب سے پہلے سال 2015 میں لگایا تھا، اور اس کے بعد وہ اسے اکثر دہراتے رہے ہیں۔ سال 2016 میں راہل گاندھی نے بی جے پی لیڈر پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا تھا اور دستاویزی ثبوت لا کر الزامات کو ثابت کرنے کا چیلنج کیا تھا۔