نئی دہلی24ستمبر (ایس او نیوز؍ یواین آئی) کانگریس نے رافیل جنگی طیارے سودے کو صدی کا سب سے بڑا گھپلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بدعنوانی کا الزام براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر ہے۔ لہٰذا اپنے بچاؤ میں کابینہ کے ساتھیوں کو آگے کرنے کے بجائے انہیں خود اس کا جواب دینا چاہئے ۔کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے رافیل کے پرانے معاہدے کو مسترد کرکے دفاعی سودے کی خریداری کے عمل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئے طریقے سے معاہدہ کیا ہے اور پبلک سیکٹر کی کمپنی ایچ اے ایل کو سودے سے الگ کرکے اپنی پسندیدہ کمپنی کو ٹھیکہ دیا ہے ۔ اس سودے میں بڑا گھوٹالا ہوا ہے۔اس لئے ا حکومت اس سے منسلک الزامات پر جانچ بھی نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاملہ براہ راست وزیر اعظم سے منسلک ہے ۔ مودی پر گھپلہ کا الزام ہے لیکن وہ اپنے بچاؤ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیر قانون روی شنکر پرساد اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کو آگے کر رہے ہیں۔کابینہ کے ان کے یہ تمام ساتھی بار بار وزیر اعظم کی وکالت کرتے ہوئے اس سودے میں انہیں پاک صاف بتانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ جتنا بچاؤ کرتے ہیں معاملہ اتنا ہی الجھتا جارہا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ مسٹر مودی اکثر تمام مسائل پر بے باکی کے ساتھ اپنی بات رکھتے ہیں۔ وہ ہر معاملے پر بولتے ہیں لیکن یہاں براہ راست الزام ان پر ہے لیکن وہ خاموش ہیں۔ ان کی خاموشی کئی سوال کھڑے کرتی ہے اس لیے انہیں اس سلسلے میں عائد الزامات کا جواب دینا چاہئے ۔کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ وزیر دفاع اس گھپلہ میں لیپا پوتی کر رہی ہیں اور وہ بے قابو رہی ہیں۔ وہ تکبر سے بھری ہیں اور فوجیوں کی توہین بھی کر رہی ہیں۔انہوں نے رافیل طیاروں کی تعمیر کے سلسلے میں ایچ اے ایل کو ہٹانے کے لئے جو دلیلیں پیش کی ہیں اور اس کی صلاحیت پر جو سوال اٹھائے ہیں، اس سے معروف کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔ ان کا یہ بیان قابل مذمت ہے اور کانگریس اس کی سخت مذمت کرتی ہے ۔ شرما نے وزیر خزانہ پر اس سودے کے سلسلے میں بے بنیاد بیان بازی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی اور فرانس کے سابق صدرفرانسوا اولاند کے بیانات کے درمیان’’جگل بندی‘‘بتا کر وزیر خزانہ بچکانی باتیں کر رہے ہیں۔ انہیں اس طرح کی بات کرنے کے بجائے رافیل سودے پر عائد الزامات پر سنجیدگی سے اپنی بات کہنی چاہئے ۔ جیٹلی نے اتوار کو سوشیل میڈیا پر کہا کہ گاندھی نے گزشتہ ماہ رافیل کے سلسلے میں کہا تھا کہ یہ طیارے صرف دور تک ہی پرواز نہیں کریں گے بلکہ آنے والے دنوں میں یہ تباہ کرنے والے بم بھی برسائیں گے ۔ اس کے بعد اولاند کا بیان آیا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ان کے بیانات کا کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے ۔ شرما نے وزیر اعظم پر رافیل جنگی طیارے سودے میں قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ جب انہیں رافیل سودے میں تبدیلی کرنی ہی تھی تو حفاظت کے تحت اس کے لئے ضروری قوانین پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سودے سے متعلق تمام معلومات کو ملک کے سامنے رکھنا چاہئے ۔اس دوران وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر راہل گاندھی اور فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند کے بیانات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان ضرور کوئی نہ کوئی تعلق ہے ۔ جیٹلی نے اتوار کو سوشیل میڈیا پر اولاند کے اس بیان کے تناظر میں یہ تبصرہ کیا ہے جس میں فرانس کے سابق صدر نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے مشہور صنعتکار انل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کو رافیل سودے کا پارٹنر بنانے کے لئے تجویز نہیں دی تھی بلکہ حکومت ہند کی طرف سے یہ تجویز دی گئی تھی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ راہل گاندھی نے30اگست کو کہا تھا کہ یہ عالمی بدعنوانی ہے اور یہ طیارے صرف دور تک ہی نہیں اڑیں گے بلکہ آنے والے دنوں میں یہ بن کر تباہ کرنے والے بم بھی برسائیں گے ۔ راہل گاندھی کا یہ بیان رافیل سودے کے بارے میں اولاند ے کے ابتدائی بیانات سے میل کھاتا ہے ۔ وزیر خزانہ نے فیس بک پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ31اگست کو کانگریس پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل پر کہا گیا تھا کہ اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ صنعتکار انیل امبانی نے فرانس کے سابق صدر کو ان کی اداکارہ پارٹنر کے ذریعے دسالٹ سے کام لینے کے بدلے رشوت دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بیان میں خود تضاد ہے ۔ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ اولاند ے کو ہندوستان کی ایک کمپنی نے رافیل کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے رشوت دی اور اب ان کو اس سودے میں گواہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اولاند ے اپنی پارٹنر اور فلم ساز جولی گات سے مبینہ تعلقات کی وجہ سے خود سرخیوں میں ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ جولی کی فلم میں تعاون کے ذریعہ امبانی کی کمپنی نے اولاند ے کو رشوت دی تھی۔
ملک کے جوانوں کے مستقبل کا سوال:راہلملک کے جوانوں کے مستقبل کا سوال:راہل
رافیل سودے میں آف سیٹ پارٹنر کے تناظر میں فرانس کے سابق صدرکے بیان کو لے کر مودی پر مسلسل حملہ بول رہے کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ پی ایم مودی اس معاملے میں صفائی دیں اور خود کو اس معاملہ میں پاک صاف ثابت کریں کیونکہ یہ وزیر اعظم کے عہدے کے وقار اور ملک کے جوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔راہل گاندھی نے رافیل معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کی مانگ دہراتے ہوئے آج کہا کہ یہ واضح طور پر بدعنوانی کا معاملہ ہے۔ دراصل فرانس کے سابق صدر نے میڈیاپارٹ کو انٹرویو میں کہا کہ رافیل سودے میں ریلائنس کا نام خود حکومت ہند نے تجویزکی تھی ۔ ان کے اس بیان کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے الزامات بڑھ گئے اور انہوں نے حکومت پر سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفیٰ اور رافیل لڑاکا طیارے سودے کی تفتیش کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی مانگ کو لے کر مہاراشٹر کانگریس27ستمبر کو ممبئی میں احتجاجی مارچ نکالے گی ۔ مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ اشوک چوہان نے ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی پر حملہ کیا اور دعویٰ کیا مودی کے لئے ملک کے مفاد کے علاوہ ’ دوستوں‘ کا تجارتی مفاد اہم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رافیل سودے سے منسلک رپورٹ کو قومی سلامتی کے نام پر دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دھوکہ ہے۔ چوہان نے دعویٰ کیا کہ مودی اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور دھوکہ دے رہے ہیں۔ دونوں کو فوری اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے،اسکینڈل کی وجہ سے مودی کا بدعنوانی کے خلاف چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔