ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رافیل طیارہ فضائیہ کیلئے ’’بوسٹر ڈوز‘‘فضائیہ سربراہ بی ایس دھنوا

رافیل طیارہ فضائیہ کیلئے ’’بوسٹر ڈوز‘‘فضائیہ سربراہ بی ایس دھنوا

Thu, 04 Oct 2018 11:22:21    S.O. News Service

نئی دہلی،4؍اکتوبر(ایس او نیوز؍یواین آئی) فضائیہ میں جنگی طیارے کے اسکویڈرنوں کی کم ہوتی تعداد کو باعث تشویش بتاتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنوا نے آج کہا کہ رافیل جنگی طیارے ہمارے لئے’’بوسٹر ڈوز‘‘ہیں اور جو جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے منظر نامے کو بدل دیں گے ۔ایئرچیف مارشل دھنوا نے 8اکتوبر کو منائے جانے والے یوم فضائیہ سے پہلے سالانہ پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب میں کہا کہ حکومت کا36رافیل جنگی طیارے خریدنے کا فیصلہ جرأت مندانہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جنگی طیاروں کی مسلسل کم ہوتی تعداد فضائیہ کے لئے باعث تشویش ہے اور ایسے میں رافیل جنگی طیارے اور روس سے خریداجانے والافضائی سکیورٹی میزائل سسٹم ایس ۔400فضائیہ کے لئے ’’بوسٹر ڈوز‘‘ہیں۔انہوں نے کہا کہ رافیل جدید ہتھیاروں سے لیس ایسا طیارہ ہے جو جنوبی ایشیا میں فضائیہ کی عسکری صلاحیت کے منظر نامے کو بدل دے گا۔یہ دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔فضائیہ میں طیاروں کی کمی کے پیش نظر صرف36 طیارے خریدنے کے فیصلے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ پرانے سودے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی اور ہمارے پاس صرف تین متبادل تھے ۔پہلا انتظار کرنا،دوسرا خرید کی تجویز (آر ایف پی)کو واپس لینا اور تیسرا ہنگامی صورت میں خرید اری کرنا،اس صورت حال میں تیسرا آپشن اپنایاگیا اور36طیاروں کی ہنگامی خرید کی گئی۔انہوں نے کہا کہ فضائیہ کا خیال ہے کہ جنگی اسکواڈرنوں کی تعداد31سے کم نہیں ہونی چاہئے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا صرف36طیارے خریدنے کے فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ہی حکومت نے فضائیہ سے پوچھا تھا توانہوں نے کہا کہ فضائیہ سے مناسب سطح پر صلاح لی گئی تھی۔اس نے کچھ مشورے دئے تھے اور ان پر حکومت کو فیصلہ کرناتھا۔رافیل سودے کی قیمت کے سلسلے میں اٹھائے جانے سوالوں پر انہوں نے کہا کہ سودے کی قیمت کے بارے میں وزیر خزانہ ،وزیردفاع اور وزیرمملکت برائے دفاع نے تفصیل سے اطلاع دی ہے ۔حالانکہ انہوں نے کہا کہ سودے پر بات چیت کرنے والی کمیٹی کو سودے کی قیمت کا پتہ پہلے سے ہی تھا تو ایسے میں وہ اس سے زیادہ قیمت پر سودا کیوں کرتی۔انہوں نے کہاکہ وزیردفاع اور وزیر مملکت برائے دفاع کہہ چکے ہیں کہ یہ سودا کل ملاکر 20فیصد سستا ہوا ہے ۔

پبلک سیکٹر کے انڈرٹیکنگ ہندوستان ایرونوٹکس لمٹیڈ(ایچ اے ایل)کے رافیل سودے سے باہر ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ فرانس کی حکومت کے ساتھ یہ سودا ہنگامی خرید کے تحت کیاگیا ہے جس میں 36طیارے اڑنے کی حالت میں پوری طرح تیار خریدے جائیں گے ۔ایچ اے ایل رافیل سودے میں ٹیکنالوجی منتقلی اور طیارے کے لائسنس کے تحت مینوفیکچرنگ کے لئے پرانے سودے میں تھی اس لئے نئے سودے میں یہ التزام نہ ہونے کی وجہ سے اسے باہر کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔انہوں نے کہا کہ ویسے بھی آف سیٹ سمجھوتے میں ہندوستانی حصہ داری منتخب کرنے کا فیصلہ بیچنے والی کمپنی کولینا ہوتا ہے ۔


Share: