نئی دہلی،15؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجستھان میں کانگریس کی جیت کے بعد سے ہی اس بات پر سب کی نظریں لگی تھیں کہ آخر راجستھان کا سی ایم کانگریس کسے بناتی ہے۔مگر اب راجستھان کے وزیر اعلیٰ پر تذبذب ختم ہو گیا ہے۔راہل گاندھی نے اشوک گہلوت کے نام کا اعلان کردیا ہے۔اس طرح سچن پائلٹ نہیں بلکہ اب اشوک گہلوت ہوں گے راجستھان کے وزیر اعلیٰ۔وہیں سچن پائلٹ کو ریاست کا نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔
کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کر کے اس کا اعلان کیا گیا۔کانگریس کے سپروائزر کے سی وینو گوپال نے بتایا کہ راہل گاندھی نے اشوک گہلوت کو راجستھان کا وزیر اعلیٰ بنایاہے جبکہ سچن پائلٹ نائب وزیر اعلی ہوں گے۔نائب وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سچن پائلٹ نے کہاکہ میں کانگریس صدر راہل گاندھی اور دیگر لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اشوک گہلوت جی کو راجستھان کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا۔میرا اور اشوک جی کا جادو مکمل طورپر چل گیا ہے اور ہم اب حکومت بنانے جا رہے ہیں۔
بتا دیں کہ راہل گاندھی کے گھر دیر تک میٹنگ ہوئی ہے اور اس اجلاس میں سچن پائلٹ اور اشوک گہلوت دونوں موجود تھے۔دراصل سی ایم کی دوڑ میں گہلوت پہلے ہی آگے چل رہے تھے۔لیکن سچن پائلٹ انہیں سخت ٹکر دیتے دکھائی دے رہے تھے۔یہاں پارٹی اعلیٰ کمان نے تجربے اور نوجوان چہرے کے درمیان تجربے کو منتخب کیا ہے۔ اشوک گہلوت پہلے بھی راجستھان کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور انہیں کافی تجربہ ہے، وہیں سچن پائلٹ راجستھان میں نوجوانوں کے چہیتے تھے ۔اس کے علاوہ کانگریس قیادت کے بھی وہ پسندیدہ چہرہ تھے۔مگر ذرائع کی مانیں تو اب یہ طے ہو گیا ہے کہ سچن پائلٹ نہیں بلکہ اشوک گہلوت ہی راجستھان کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔راجستھان میں سی ایم کے نام پر غور وخوص کے لئے جمعہ کو پرینکا گاندھی بھی راہل گاندھی کے گھر پہنچیں۔
کانگریس پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر چل رہی باتوں کے درمیان راہل گاندھی نے میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں سچن پائلٹ، اشوک گہلوت سمیت راجستھان کے انچارج جنرل سکریٹری اویناش پانڈے بھی موجود تھے۔ دراصل راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ تینوں ہی ریاستوں میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے۔راجستھان کی200 سیٹوں میں سے کانگریس کو99ملیں، جبکہ بی جے پی کے حصے میں73 نشستیں آئیں۔مدھیہ پردیش کی230میں سے114سیٹیں کانگریس کو ملی ہیں، وہیں چھتیس گڑھ کی90سیٹوں میں68کانگریس کے حصے میں گئی ہیں۔