ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دشینت چوٹالہ پر حکومت سے حمایت واپس لینے کا دباؤ

دشینت چوٹالہ پر حکومت سے حمایت واپس لینے کا دباؤ

Mon, 14 Dec 2020 12:23:10    S.O. News Service

چندی گڑھ،14؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہریانہ میں بی جے پی حکومت کی حمایت کرنے والےجے جے پی لیڈردشینت چوٹالہ پرحکومت کا ساتھ چھوڑنے کا دباؤ بڑھتا  جارہا ہے۔گزشتہ روزاچوٹالہ نےحالانکہ کسانوں کے احتجاج اورزرعی قوانین  کے تعلق سے مرکزی وزیروں سے ملاقات کرتے ہوئے مفاہمت کی امید کی ظاہر کی تھی لیکن کانگریس نے ان پر حکومت سے حمایت واپس لینے کا پھر دباؤ ڈالا ہے اور ان پر سخت تنقید کی ہے ۔

کانگریس نے کہا ہے کہ ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ اور جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی)  لیڈر دُشینت چوٹالہ نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہیں عوامی مفاد میں ریاستی حکومت سے حمایت واپس لینا چاہیے۔ اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کانگریس کے میڈیا محکمہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ چوٹالہ کسانوں کی مشکلات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاست کر رہے ہیں اور بی جے پی لیڈران کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ انہیں عوام سے غداری کرنے کے بجائے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی سربراہی والی حکومت سے فوری طور سے حمایت واپس لینا چاہیے۔

 سرجے والا نے کہا کہ جے جے پی لیڈر کو بی جے پی قائدین اور مرکزی وزراء سے بات کرنے کے لئے دکھاوا کرنے کے بجائے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ ترجمان نے بتایا کہ ’’دشینت کے پاس بی جے پی  لیڈروں سے سٹی کونسل اور بلدیاتی انتخابی اتحاد اور اقتدار میں حصہ داری کے لئے سیاسی سودے بازی کے بارے میں بات کرنے کا وقت ہے لیکن کسانوں کے احتجاج کرنے والوں سے بات کرنے کا وقت نہیں ہے  جو ان کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

 سرجے والا نے بتایا کہ ہریانہ کے لوگوں کو اچھی طرح   یاد ہے کہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے پہلے کس طرح جے جے پی اور دشینت چوٹالہ بی جے پی حکومت میں بدعنوانی، سرکاری ملازمتوں میں دھاندلی اور کسانوں کی پریشانیوں کے بارے میں بات کرتے تھے لیکن اسمبلی انتخابات میں جے جے پی اور دشینت چوٹالہ نے بی جے پی کی مدد کرنے کے لئے اپنے امیدوار اتارے اور اسے جیتنے میں مدد کی۔

 واضح رہےکہ سنیچر کو   دشینت چوٹالہ نے راجدھانی دہلی پہنچ کر مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور مرکزی وزیر ریل پیوش گوئل سے ملاقات کرکے کسانوں کے مسائل پر گفت و شنید کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد انھوں نے میڈیا سےگفتگوکرتے ہوئے۴۸؍گھنٹوں میں کسان تحریک کا حل نکل آنے کی امید ظاہر کی تھی ۔ دشیت چوٹالہ نے کسان لیڈروں اور مرکزی حکومت کے درمیان بے نتیجہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ24؍سے48؍ گھنٹے بہت اہم ہیں۔ حکومت کے مثبت رخ کے سبب کسان تحریک کا حل نکلنے کے آثار ہیں۔

اس دوران کئی حلقوں نے کسان تحریک کے شدید ہونے کے نتیجے میں حالات بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔گزشتہ روز ہماچل پردیش  کے سابق وزیراعلیٰ شانتا کمار نے کہا تھاکہ کسان تحریک نازک موڑ  پر پہنچ چکی ہے۔حکومت اورکسا ن تنظیموں کو حد درجہ احتیا ط برتنی ہوگی ۔متعدد  تنظیمیں بھی کسانوں کی تحریک کا جلدسے جلد حل نکالنے کا مطالبہ کررہی ہیں جبکہ کسان دوسری جانب احتجاج کو شدید رخ دینے پرآمادہ ہیں۔


Share: