پٹنہ ،12؍دسمبر (آئی این ایس انڈیا) ودھان سبھا اسپیکر وجئے کمار سنہا اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے مابین ’’تنازعہ‘‘ تھمابھی نہیں تھا کہ اسی دوران بہار میں بڑھتے ہوئے جرائم کے گراف پر تیجسوی یادو نے بی جے پی اور جے ڈی یو دونوں کو سوشل میڈیاپرنشانہ پر لے لیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ مہاجنگل راج بہاربی جے پی اور جدیو کی پشت پناہی میں مجرموں اور غنڈوں کے لئے ’’محفوظ ترین‘‘مقام ہے ۔ دو دو وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود بی جے پی کے ایم ایل اے اور وزراء یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں مجرم اور پولیس بے قابو ہیں۔ تیجسوی یادو نے سوال کیا ہے کہ کون قصور وار ہے؟ انہوں نے کہا ہے کہ سوالوں سے مت بھاگئے! عوام کو جواب دیں۔جو جنگل راج کے نام پرلوگوں کو ڈرا رہا ہے ، اس سے بھی پوچھئے۔
واضح ہوکہ حالیہ دنوں قتل اور جرائم کے دیگر واقعات کے علاوہ دربھنگہ اورسیوان میں لاکھوں کی دن دہاڑے ڈکیتی کی وجہ سے بہار حکومت سوالات میں گھر گئی ہے۔سینئر کانگریس لیڈر پریم چند مشرا نے مطالبہ کیا ہے کہ اب بہارکیلئے ایک عدد کل وقتی وزیر داخلہ کی ضرورت ہے۔ اس وقت محکمہ داخلہ کی ذمہ داری چیف منسٹر نتیش کمار پر ہے۔ کچھ دن پہلے بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے جیسوال نے بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
دربھنگہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے نے دربھنگہ میں 7 کروڑ کی ڈکیتی کے واقعے کے بعد پولیس انتظامیہ کو بھی سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا تھا۔ اب قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے نظم و نسق کو لے کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے بھی کہا ہے کہ بہار میں جرائم پیشہ افراد کا حوصلہ بلند ہے ، جب کہ وزیر اعلی کا حوصلہ پست ہوگیا ۔
جے ڈی یو-بی جے پی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد سے ہی اپوزیشن مسلسل بڑھتے جرائم پر گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایوان میں بھی تیجسوی یادو نے نتیش کمار کو گھیر ا، جس کے بعد نتیش کمار کا غصہ پھوٹ پڑا تھا۔ روزگار کے سوال پر حکومت کو گھیرنے والے تیجسوی یادو نے اب حکومت کو بہارمیں بڑھتے جرائم پر مسلسل نشانہ لگارہے ہیں۔کانگریس پہلے ہی ایک عدد کل وقتی وزیر داخلہ کا مطالبہ کر چکی ہے۔