نئی دہلی،29 مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے امیدواروں کی ایک اور فہرست جاری کی ہے۔اس فہرست میں شیوہر اور آرا کے لئے کسی امیدوار کا ذکر نہیں ہے۔
سیوان سیٹ پر آر جے ڈی نے اس بار بھی شہاب الدین کی بیوی حنا صاحب پر داؤ لگایا ہے۔ اس فہرست میں دربھنگہ سے محمد علی اشرف فاطمی کی جگہ عبد الباری صدیقی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔یہاں سے پہلے آر جے ڈی کے ٹکٹ پر محمد علی اشرف فاطمی کئی بار الیکشن جیت چکے ہیں۔عبدالباری صدیقی اس سے پہلے 2009 میں مدھوبنی سے لوک سبھا انتخابات کے لئے میدان میں اترے تھے لیکن جیت حاصل نہیں کرسکے تھے۔وہ ابھی دربھنگہ کے علی پور سے رکن اسمبلی ہیں۔
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے امیدواروں کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں سارن لوک سبھا سیٹ سے چندرکا رائے کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔یہاں سے ابھی بی جے پی کے راجیو پرتاپ روڈی ایم پی ہیں جنہوں نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں آر جے ڈی کی رابڑی دیوی کو شکست دی تھی۔ 2004 میں اس سیٹ پر لالو پرساد یادو جیتے تھے۔کہا جائے تو یہاں سے لالو پرساد کے خاندان سے ہی لوگ الیکشن لڑتے اور جیتتے رہے ہیں۔ حالانکہ 2009 میں شرد یادو نے لالو کو یہیں سے شکست دی تھی۔اب کی بار لالو پرساد یادو کے سمدھی چندرکا رائے کو مقابلے کے لئے اتارا گیا ہے۔لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کے ساتھ چندرکا رائے کی بیٹی ایشوریا رائے کی شادی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ شادی اب تنازعات میں گھری ہے اور دونوں کے درمیان طلاق کو لے کر معاملہ کورٹ میں زیر التوا ہے۔حاجی پور سے شیو چندر رام کو آر جے ڈی نے میدان میں اتارا ہے۔اس سیٹ پر رام ولاس پاسوان انتخابات جیتتے رہے ہیں۔اس بار رام ولاس پاسوان انتخابی میدان میں نہیں ہوں گے۔پاٹلپتر سیٹ پر لالو پرساد یادو کی بڑی بیٹی میسا یادو انتخاب لڑ رہی ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں اس سیٹ کو لے کر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔اسی دوران رام کرپال یادو آر جے ڈی چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے اور میسا بھارتی کے خلاف الیکشن لڑے تھے۔انتخابات میں میسا کی شکست ہوئی تھی۔پاٹلپتر سیٹ جیتنے کے بعد رام کرپال یادو کو نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا۔آر جے ڈی کے سینئر لیڈر رگھونش پرساد سنگھ ویشالی سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔رگھونش پرساد یہاں سے کئی بار الیکشن جیت چکے ہیں۔انہی کی قیادت میں یو پی اے نے اپنے سب سے کامیاب منصوبوں میں سے ایک منریگا کو زمین پر اتارا تھا۔ رگھونش پرساد یادو ریاضی کے پروفیسر رہے ہیں۔سیتامڑھی سے ارجن رائے انتخابی میدان میں ہیں۔بہار یونیورسٹی کی طلبا سیاست کے راستے بہار کی سیاست میں قدم رکھنے والے ارجن رائے جے ڈی یو سے 2009 میں یہاں سے الیکشن جیتے تھے۔2014 کے انتخابات میں این ڈی اے کے امیدوار نے اس سیٹ پر جیت درج کی تھی۔مدھے پورا سے شرد یادو کو میدان میں اترا گیا ہے۔انتخابات کے بعد ان کی پارٹی کا انضمام آر جے ڈی میں ہو جائے گا اور اسی وجہ سے انہیں آر جے ڈی کے انتخابی نشان پر میدان میں اتارا گیا ہے۔
لالو پرساد یادو ہی شرد یادو کو بہار کی سیاست میں لائے تھے۔شرد یادو چار بار لوک سبھا انتخابات جیت چکے ہیں اور تین بار جے ڈی یو کی جانب سے راجیہ سبھا میں لیڈر رہ چکے ہیں۔بعد میں جے ڈی یو سے انہیں باہر کر دیا گیا۔اس کے بعد شرد یادو نے خود کی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔شرد یادو بنیادی طور پر مدھیہ پردیش کے رہنے والے ہیں۔آچاریہ کرپلانی 1957 میں مدھے پورا سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے اسی مدھے پورا سے شرد یادو نے 1991، 1996، 1999 اور 2009 میں لوک سبھا انتخابات جیت کر پارلیمنٹ پہنچے۔1999 میں لالو پرساد یادو کو یہاں سے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔بیگو سرائے سے آر جے ڈی نے اس بار بھی تنویر حسن پر داؤ لگایا ہے۔پہلے یہ قیاس لگائے جا رہے تھے کہ اس سیٹ پر جے این یو طالب علم یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کو آر جے ڈی اور دیگر اپوزیشن پارٹی حمایت دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔بی جے پی نے اس سیٹ پر گری راج کشور سنگھ کو اتارا ہے۔آر جے ڈی کے اعلان کے بعد یہاں سہ رخی مقابلہ طے ہے۔