ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تلنگانہ: 66 کروڑ کی افطار پارٹی تنازعات کی زد میں، ہائی کورٹ میں پی آئی ایل دائر

تلنگانہ: 66 کروڑ کی افطار پارٹی تنازعات کی زد میں، ہائی کورٹ میں پی آئی ایل دائر

Sun, 10 Jun 2018 11:45:46    S.O. News Service

نئی دہلی، 9؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) رمضان اور عید کے مدنظر تمام سیاسی جماعتوں میں افطار پارٹی دینے کی ایک روایت سی ہو گئی ہے۔ دراصل، ایسا کر کے یہ جماعتیں ایک خاص ووٹ بینک کو ٹارگیٹ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تازہ ترین معاملہ تلنگانہ کا ہے، جہاں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو (کے سی آر) نے سالانہ منعقد ہونے والی افطار پارٹی میں 66 کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، کئی سماجی تنظیموں نے کے سی آر کے اس فیصلے پر اپنی ناراضگی جتائی ہے۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل بھی داخل کی گئی ہے۔

بتا دیں کہ کے سی آر کی دعوت افطار حیدرآباد میں دی جانے والی ہے۔ اس میں وزیر اعلی، ان کی کابینہ کے ارکان کے علاوہ، شہر کی معروف شخصیات کے حصہ لینے کا امکان ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حیدرآباد میں افطار پارٹی کی اہم تقریب کے انعقاد کے علاوہ، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بھی ایک پروگرام منعقد کیا جائے گا۔

اس کے تحت آنے والی 400 مسجدوں اور ریاست کے دیگر اضلاع کی 400 مسجدوں میں الگ سے افطار پارٹی ہو گی۔ پھر رمضان کے تحفہ کے طور پر کپڑے بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ اس سب کے لئے تلنگانہ حکومت کی طرف سے 66 کروڑ روپئے مختص کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔

کے سی آر کی افطار پارٹی کے خلاف دائر درخواست میں درخواست دہندگان نے ریاستی حکومت کی طرف سے تلنگانہ کے اقلیتی فلاحی منصوبوں کا قیمتی پیسہ اس طرح کی پارٹی کے انعقاد پر پانی کی طرح بہا کر اس کے غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بتا دیں کہ الگ ریاست بننے کے بعد سے تلنگانہ پر قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ موجودہ وقت میں تلنگانہ کا قرض 1.80 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔


Share: