ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تریپورہ تشدد: جانچ ٹیم کے دو ممبران پریواے پی اے

تریپورہ تشدد: جانچ ٹیم کے دو ممبران پریواے پی اے

Fri, 05 Nov 2021 11:52:59    S.O. News Service

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے2 اراکین ایڈوکیٹ مکیش اور ایڈوکیٹ انصاراندوری پرتریپورہ پولیس نے انتہائی سخت دفعات عائد کردیں، 10 نومبر کو پوچھ تاچھ کیلئے اگر تلہ طلب

نئی دہلی،5؍نومبر(ایس او نیوز) تری پورہ میں ہوئے مسلم کش فسادات کی جانچ کرنے والے سپریم کورٹ کے وکیلوں کے خلاف ہی تریپورہ پولس نے یو اے پی اے کی دفعات   عائد کرتے ہوئے انہیں 10 نومبر کو پوچھ تاچھ کے لئے اگرتلہ پولس تھانہ میں حاضر ہونے کے لئے کہا  ہے۔

میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق  تریپورہ میں مسلم مخالف تشدد کی آزادانہ جانچ کیلئے وہاں کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والی سپریم کورٹ کے وکیلوں کی ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر تریپورہ  حکومت پر انگلی اٹھائی ہے۔ جس کے بعد اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے دو ممبران کے خلاف تر یپورہ پولیس نے یو اے پی اے کی دفعات عائد کردی ہیں اور انہیں نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا ہے۔ 

پتہ چلا ہے کہ  رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت چاہتی تو مسلم مخالف تشدد پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر تشدد کا معاملہ ہے جس پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ اس رپورٹ سے تریپورہ پولیس اور حکومت سخت برہم ہے۔ اس نے رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوۓ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ممبران ایڈوکیٹ مکیش اور ایڈوکیٹ انصار اندوری کو یو اے پی اے کے تحت نوٹس بھیجا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ دونوں نے بے بنیاد رپورٹ کوسوشل میڈ یا پر جاری کردیا جس کی وجہ سے تر یپورہ پولیس کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ ساتھ ہی دونوں کو تریپورہ پولیس کے سامنے 10 نومبر سے قبل پیش ہونے کی ہدایت دیتی ہے اور کہا گیاہے کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے توان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں ایڈوکیٹ مکیش اور ایڈوکیٹ انصار اندوری کے علاوہ ایڈوکیٹ امیت شری واستو اور ایڈوکیٹ احتشام ہاشمی بھی شامل تھے۔ ان چاروں نے منگل کو دہلی کے پریس کلب میں مذکورہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں تریپورہ حکومت کی نا اہلی پر سنگین سوالات قائم کئے گئے تھے۔ دونوں وکیل صاحبان کے خلاف مقدمات ویسٹ اگرتلہ پولس اسٹیشن  میں درج کئے گئے ہیں۔ اور دونوں کو 10 نومبر تک پولیس کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ جو نوٹس جاری ہوا ہے اس کے مطابق گزشتہ دنوں جور پورٹ آپ لوگوں نے جاری کی ہے اس کی وجہ سے دو فرقوں کے درمیان نفرت میں اضافہ ہوسکتا ہے، ساتھ ہی انہیں تشدد پر اکسایا بھی جاسکتا ہے ۔ اس لئے ان رپورٹس کے تعلق سے جواب دینے کے لئے دونوں افراد پولیس کے سامنے پیش ہوں ۔ اس نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ تفتیش کے دوران پولیس نے یہ پایا کہ اس رپورٹ کی وجہ سے اور آپ دونوں کے بیانات کی وجہ سے بھی حالات بگڑ سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ مزید تفتیش اور پوچھ تاچھ کے لئے دونوں پولس کے سامنے پیش ہوں۔ ساتھ ہی دونوں وکلاء جو سماجی کارکن بھی ہیں کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ سوشیل میڈیا سے فوری طور پر ہٹائیں۔اس سے امن و امان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس نوٹس کے بارے میں فی الحال دونوں وکیل صاحبان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن سماجی تنظیموں کی جانب سے اس کی سخت مذمت ہورہی ہے اور اسے تریپورہ حکومت کی ہٹ دھرمی اور سچائی کو دبانے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکلاء کی ٹیم کے ذریعہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 اکتوبرکو بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران متعدد پنڈالوں پر حملوں کے بعد تریپورہ میں بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ نے احتجاجی ریلیوں کا انعقادکیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان ریلیوں کے دوران تشدد میں 12 مساجد ، 9 دکانوں اور3 مکانوں کو کھل کر نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پولیس اور انتظامیہ حالات سے سختی سے نمٹتی تو اس طرح کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 26 اکتو برکو وی ایچ پی کی ریلی سے چار دن قبل مسلمانوں کی تنظیم جمعیۃ علمائے ہند نے وزیر اعلی بپلب دیو سے ملاقات کر کے انہیں آگاہ کیا تھا کہ اس طرح کے واقعات پیش آ سکتے ہیں اور ہندو مسلم امن وامان کو خطرہ ہے۔اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

رپورٹ میں اور کیا ہے؟

رپورٹ میں واضح طور پر تریپورہ کی بی جے پی حکومت کو تشدد کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں تریپورہ کے تشدد کی جانچ کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔ تمام متاثرین کی علاحدہ علاحدہ ایف آئی آر درج کر کے جانچ کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بالکل واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ تشدد مسلمانوں کو منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا تاکہ اس کا فائدہ جلد ہی ہونے والے بلد یاتی اور پھر اسمبلی انتخابات میں اٹھایا جاسکے۔ اس رپورٹ میں تشدد کے متعدد متاثرین کے بیانات بھی درج ہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی وضاحت ہے کہ متاثرین بیان درج کروانے سے خوفزدہ بھی ہیں کیوں کہ انہیں ساجی بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ پولیس اور فرقہ پرستوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا بھی ڈر ہے۔ اس لئے وہ خاموش ہیں۔ ان میں سے کچھ کو خاموش رہنے کے لئے دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔


Share: