پٹنہ28 نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار کے مرکزی وزیر اور قومی لوک سمتا پارٹی کے صدر اوپیندر کشواہا نے کہا کہ وہ قومی جمہوری اتحاد میں ہیں اور آگے بھی رہنا چاہتے ہیں، لیکن بی جے پی کا اب تک جو ’رسپانس‘ ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ آگے کیا ہوگا، ابھی نہیں پتہ۔ این ڈی اے کی اتحادی لوک سمتا کے سربراہ کشواہا کہتے ہیں کہ وہ اس کے بعد سے (سال 2014) این ڈی اے میں ہیں، جب بہار کے کئی بی جے پی لیڈر ہی نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنانے کو لے کر بولتے تک نہیں تھے۔کشواہا نے خصوصی بات چیت میں ذات پات سیاست کرنے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا الزام لگانے والے غلط بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے برادری کو لے کر اب تک کوئی بیان دیا ہے، تو کوئی دکھا دے۔ ہاں، پچھڑوں، غریب، اقلیتوں کی بات میں نے شروع سے اٹھائی ہے اور آگے بھی اٹھاتارہوں گا ۔لوک سبھا انتخابات کے لئے ٹکٹ کی تقسیم میں کیا لوک سمتا پارٹی نظر انداز کی جا رہی ہے؟ اس سوال پر کشواہا نے کہا کہ ہماری پارٹی کسی ایک شخص کی پارٹی نہیں ہے۔ آر ایل ایس پی جب بھی کوئی بڑا فیصلہ لیتی ہے تو کارکنوں کی رائے جان کر ہی کرتی ہے ۔ بی جے پی کو 30 نومبر کو تک کا وقت دیا گیا ہے.۔ اس کے بعد چار دسمبر کو لوک سمتا پارٹی کے کارکن والمیکی نگر میں جمع ہوں گے، تب آگے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اشاروں ہی اشاروں میں کئی بار مہا گٹھ بندھن (کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور ہم) میں چلے جانے کی بات کہہ چکے کشواہا نے فی الحال مہا گٹھبدھن میں جانے یا کسی رہنما کے رابطے میں ہونے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ این ڈی اے میں ہیں اور آگے بھی رہنا چاہتے ہیں، لیکن احترام کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملنے کا وقت مانگا ہے، ان سے مل کر انہیں سب کچھ بتانا چاہتا ہوں۔بہار میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے وزیر اعلی نتیش کمار کی آر ایل ایس پی کے لیڈروں نے تنقید کی تھی۔ یہ ذکر کئے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نتیش کمار کی ساکھ گری ہے۔ آر جے ڈی کے 15 سال کے دور حکومت اور نتیش کمار کی حکومت میں فرق پوچھے جانے پر کشواہا نے کہا کہ اس طرح تو ایک ایک فرق بتا پانا مشکل ہے۔