ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی صدر امت شاہ کا پھر کرناٹک دورہ؛ طلاق ثلاثہ بل کو خواتین کی حمایت حاصل ہونے کا کیا دعویٰ

بی جے پی صدر امت شاہ کا پھر کرناٹک دورہ؛ طلاق ثلاثہ بل کو خواتین کی حمایت حاصل ہونے کا کیا دعویٰ

Mon, 26 Feb 2018 20:22:07    S.O. News Service

کلبرگی، 26فروری(ایس او نیوز/یو این آئی) ایک طرف ملک بھر میں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں مسلم خواتین سڑکوں پر اُتر کر طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مظاہرے اور احتجاج درج کررہی ہیں، وہیں  بی جے پی کے صدر امت شاہ دعویٰ کررہے ہیں کہ طلاق ثلاثہ بل کو   خواتین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ کلبرگی میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے امت شاہ نے بتایا کہ مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت خواتین کو مساوی اختیارات دینے او ر ان کے حقوق کی فراہمی کے لئے پابند ہے ۔اس مسئلہ پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے، بی جے پی اس کا لحاظ کرتے ہوئے ضروری قانون  لائے گی ۔امت شاہ کے مطابق اس مسئلہ پر پارٹی میں کوئی الجھن نہیں ہے ۔

امت شاہ نے کرناٹک کی سدرامیا سرکار کو پھر ایک بار نشانہ بناتے ہوئے  دعویٰ کیا کہ کرناٹک کی  سدرامیاحکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے اور یہاں کے عوام اب یہاں  تبدیلی چاہتے ہیں۔امت شاہ کے مطابق  ریاستی حکومت کی رشوت خوری کے چرچے ہر کسی کی زبان پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے حیدرآباد ۔ کرناٹک اور دوسرے علاقوں میں بی جے پی کے تئیں عوام کا جوش وخروش قابل دید ہے  اورہر علاقہ سے پارٹی کو بہتر ردعمل مل رہا ہے۔ امت شاہ کے مطابق آئندہ انتخابات میں بی جے پی حکومت کی تشکیل یقینی ہے ۔مسٹر شاہ نے  ریاستی حکومت کی جانب سے  پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کے خلاف عائد معاملات سے دستبرداری اختیار کرنے پر سدرامیا حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  اسی سے  سدرامیاحکومت کی ایک طرفہ کارروائی کااظہار ہوتا ہے ۔

امسٹر شاہ کے مطابق  ریاست میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے 25کارکنوں کا قتل کیاگیا ہے مگر سدرامیا حکومت نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔ نیرو مودی کے خلاف بی جے پی حکومت کی جانب سے کی جارہی کارروائی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیرو مودی کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔سی بی آئی ، ای ڈی کی جانب سے کارروائی کی جارہی ہے ۔یہ کارروائی آج تک کی سب سے سخت کارروائی ہوگی ۔ان کے کئی ہیرے جواہرات کو ضبط کیا گیا ہے ۔ان کے دفاتر کومہربند کردیاگیا ہے، اور ان کے بینک اکاونٹس کو منجمد کیا جارہا ہے ۔

امت شاہ نے بتایا کہ  ریاست میں کسانوں کی خودکشی کے معاملات پر حکومت کے رویہ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ  ریاست میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کے بعد کسانوں کے قرضوں کی معافی کے علاوہ دیگر مسائل بھی حل کئے جائیں گے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بی جے پی  حکومت کے خاتمہ کے بعد ترقی ٹھپ پڑ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے مٹھوں او رمندروں سے بھی ریاستی حکومت نے ناانصافی کی ہے، جس سے عوام ناراض ہیں۔انہوں نے بی جے پی لیڈروں کے جھوٹ بولنے سے متعلق راہل گاندھی کے ریمارکس کا حوالہ دیئے جانے پر کہاکہ ان کی پارٹی 2014کے انتخابات کے بعد سوائے پنجاب کے کسی اور ریاست میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ،جبکہ جن جن ریاستوں میں انتخابات ہوئے وہاں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کون جھوٹ بول رہا ہے ۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ مہاراشٹر،ہریانہ ،جھارکھنڈ، آسام،کشمیر،اتراکھنڈ،منی پور ،ہماچل پردیش، گجرات میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے اور اب ان کی پارٹی تریپورہ میں بھی کامیابی حاصل کرے گی۔

مسٹر امیت شاہ نے کہا کہ کرناٹک میں حکمرانی کیسی ہوتی ہے ، اگر یہ دیکھنا ہوتو ملکا ارجن کھرگے کے حلقہ میں دیکھنا ہوگا جہاں کرناٹک کے دیگر علاقوں سے زائد پسماندگی ہے ۔مسٹر امیت شاہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومت کو دی گئی مالیاتی امداد کی تفصیلات سے بھی واقف کروایا اور کہاکہ فائنانس کمیشن میں کرناٹک کیلئے مرکز کا حصہ 88500 کروڑ روپئے تھا اس کو بڑھا کر 2لاکھ 19ہزار کروڑروپئے کردیاگیا ۔ اس طرح اس میں لگ بھگ ایک لاکھ 30ہزار کروڑروپئے کا اضافہ کیا گیا۔علاوہ ازیں کرناٹک میں اجول ڈسکاونٹ یوجنا کیلئے مرکز نے 4300کروڑروپے ، ڈسٹرکٹ منرل فنڈ کے تحت 34,353 کروڑروپے ،اسمارٹ سٹی کیلئے 960کروڑ روپے ،امرت یوجنا کیلئے 4900کروڑروپے ،سوچھ بھارت یوجنا کے لئے 204کروڑروپے ،بسوں کی خریداری کے لئے 239کروڑروپے ،بنگالورو میٹرو کے لئے 2600کروڑروپے ،سوائل ہیلتھ کارڈس کیلئے 31کروڑروپے ،پردھان منتری کرشی یوجنا کے لئے 405کروڑ روپے ،پردھان منتری آواس یوجنا کیلئے 290 کروڑروپے ،قومی شاہراہوں کیلئے 27کروڑ روپے ،ریلوے کیلئے 2197کروڑروپے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی مرکز کی حکومت نے ریاست کی چھ لاکھ سے زائد خواتین کو گیس کے کنکشنس دینے کاکام بھی کیا ہے ۔ تقریبا ایک لاکھ 45ہزار کروڑایل ای ڈی بلبس کی تقسیم بھی کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ کسانوں کا طویل عرصہ سے یہ مطالبہ تھا کہ بی ایس ایس کے شوگر مل کو احیا کیا جائے ، بی جے پی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اس مل کا احیا کرے گی۔بی جے پی امیدواروں کے انتخاب کے مسئلہ پر امیت شاہ نے کہاکہ بی جے پی کا سنٹرل پارلیمانی بورڈ ٹکٹس کا فیصلہ کرے گا او ر اس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔انہوں نے ریاست میں مہادائی دریاکے تنازعہ سے متعلق کہا کہ اگر ریاستی حکومت سنجیدہ ہوتی تو یہ مسئلہ حل کر لیاجاتا تھا تاہم ریاستی حکومت اس مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ہے ۔انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ریاست میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد اس تنازعہ کا مثبت حل نکالا جائے گا۔


Share: