بنگلورو،31مارچ(ایس او نیوز؍یواین آئی) امت شاہ نے آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کی صورت میں گئو ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کا جو اعلان کیا تھا، وہ صرف سیاسی چال ہے، اس بات کا اظہاروزیرداخلہ رام لنگاریڈی نے کیا۔
بنگلور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رام لنگا ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی ہی حکومت میں برازیل کے بعد ہندوستان گائے کا گوشت برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے اور گائے کے گوشت کی برآمد میں ریکارڈ 14فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں مہاراشٹرا اور اُترپردیش سے گائے کا گوشت سب سے زیادہ برآمدکیا جاتا ہے۔ اسی طرح بی جے پی حکومت والی گوا ریاست میں 30تا50ٹن گائے کے گوشت کا استعمال کیاجاتا ہے ۔
رام لنگا ریڈی نے بتایا کہ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے خود دعویٰ کیا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کو گوشت کھانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا مودی شمال مشرقی ریاستوں میں جہاں بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے ، گائے کا گوشت استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شخصی طورپر وہ تمام قسم کے جانوروں جن کا استعمال گوشت کے طورپر کیا جاتا ہے ، کی ہلاکت پر پابندی لگانے کی حمایت کرتے ہیں تاہم بی جے پی اس کی پابند عہد نہیں ہے اور شاہ کا بیان صرف لب کشائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ بعض بی جے پی کے لیڈران یوپی اور مہاراشٹر میں بیف پروسیسنگ سنٹرس چلاتے ہیں۔اگر بی جے پی گاؤ ذبیحہ پر تشویش رکھتی ہے تو وہ ملک بھر میں اس پر پابندی کیوں نہیں لگاتے ؟
مسٹرریڈی نے کہا کہ ہندوستان نے 2017کے دوران 1850 میٹر ک ٹن گائے کے گوشت کو برآمد کیا ہے اور مالیاتی سال2015-16میں گائے کے گوشت کو برآمد کرنے سے 26,682کروڑروپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔توقع ہے کہ ہندوستان جاریہ مالیاتی سال میں برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گائے کے گوشت کو برآمد کرنے میں سرکردہ ملک کے طورپر ابھرے گا۔
کانگریس لیڈر نے کرناٹک میں گزشتہ چند دنوں سے امیت شاہ کے مذہبی مٹھوں کے دورہ پر بھی نکتہ چینی کی جہاں ماضی میں جانے کی ان کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے یہ دورے مٹھوں سے محبت میں نہیں بلکہ انتخابات کے پیش نظر کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے نیرو مودی جیسے تاجروں کے ملک کے بینک سے بھاری قرض حاصل کرکے ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر سوالات اُٹھائے اور کہا کہ کرناٹک کو ایسے افراد سے تعلقات کی ضرورت نہیں ہے جو دھوکہ دہی کرنے والے تاجروں کی حمایت کرتے ہیں۔
امت شاہ کے اس بیان پر کہ اگر ان کی پارٹی برسراقتدارآئے گی تو ریاست کے ہندو افراد کے قتل کرنے والوں کوسزا دی جائے گی، ریڈی نے ان کی سخت نکتہ چینی کی ۔کانگریس لیڈرنے مزیدکہاکہ امیت شاہ کو ایسے افراد کو سزا دینے کی کیوں ضرورت پڑ گئی جبکہ کرناٹک حکومت نے پہلے ہی اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کی گرفتاری ہو اور ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی بھی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ درحقیقت ایسے دس واقعات ہی پیش آئے ہیں جس میں موافق ہندو کارکنوں کو مذہبی بنیادوں پر ہلاک کیا گیا جبکہ دیگر شخصی یا پھر دوسری وجوہات کے سبب قتل کی واردات پیش آئیں۔انہوں نے امیت شاہ سے سوال کیا کہ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ سنگھ پریوار کے کارکنوں نے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کے 12 ارکان کا قتل کیا ہے ۔کیا ان افراد کی جانوں کی کوئی قدر نہیں ہے ؟