پٹنہ،24/اکتوبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) بہار میں پہلی بار اسد الدین اوویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین نے کامیابی حاصل کی ہے۔قمرالہدی نے کشن گنج اسمبلی سیٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی سویٹی سنگھ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کر لی ہے۔وہیں بیلہر سے آر جے ڈی کے امیدوار کی جیت ہوئی ہے۔بہار میں لوک سبھا کی ایک اور 5 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کی جمعرات کو چل رہی ووٹوں کی گنتی کے رجحانات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو جھٹکا لگا ہے سمستی پور لوک سبھا سیٹ سے این ڈی اے امیدوار لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) امیدوار پرنس راج سے آگے رہے، لیکن اسمبلی کی پانچ سیٹوں میں سے چار میں این ڈی اے کے امیدوار پیچھے رہے ہیں۔سمستی پور لوک سبھا سیٹ سے این ڈی اے کی جانب سے ایل جے پی امیدوار پرنس کمار نے 60 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے آگے چلتے ہوئے فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے، جس سے ان کا پہلی بار لوک سبھا میں پہنچنا طے ہوگیا ہے۔ادھر سمری بختیار پور سیٹ پر آر جے ڈی کے ظفر عالم 16 ویں راؤنڈ کے بعد 6,000سے زیادہ ووٹوں سے آگے چل رہے جبکہ دروندا میں آزاد امیدوار کرنجیت سنگھ نے فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔ناتھ نگر سے این ڈی اے کے لئے کچھ راحت کی خبر ہے، جہاں سے جد (یو) کے لکشمی لال منڈل چار ہزار ووٹوں سے آگے رہے۔بیلہر سے بھی آر جے ڈی کے امیدوار رام دیو یادو نے جنتادل (یو) کے امیدوار لالدھاری یادو سے تقریباًآٹھ ہزار ووٹوں سے برتری حاصل کی ہے۔بتا دیں کہ سمستی پور لوک سبھا اور اسمبلی کی پانچ سیٹوں - کشن گنج، سمری بختیار پور، درودا، ناتھ نگر اور بیلہر کے ووٹروں نے 21 اکتوبر کو ووٹ دیا تھا۔اس ضمنی انتخاب کے لیے اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کا سیمی فائنل مانا جا رہا ہے۔اس ضمنی انتخاب میں جنتا دل (یونائٹیڈ) کے صدر نتیش کمار اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے تیجسوی یادو کی شبیہہ داؤ پر لگی ہے۔