بھٹکل:4/فروری (ایس او نیوز) گیتا، بائبل ، قرآن جیسی مذہبی کتابوں میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے ، سبھی کتابیں انسانی فلاح وبہبودی کا درس دیتی ہیں، البتہ اس کا مطالعہ کرنے والے نیم حکیم مذہبی کتابوں میں پیچیدگی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ یگنا، یاگ ، پوجا جیسی مذہبی رسومات کو کوئی بھی ادا کرسکتاہے، ویدوں اور اپنشدوں نے کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے، کچھ عقل مندوں نے ہی ذات پات کی سرخی لگا کر حدود میں رکھے جانے کی بات شری برہمانند سرسوتی سوامی جی نے کہی۔
سوامی جی نے بہت ہی واضح اندازاپناتے ہوئے کہاکہ بھٹکل کے متعلق باہر جیسے کچھ غلط فہمیاں ہیں، لیکن انہی کے ہم تمام ایک چھوٹے سے داغ کے بغیر روحانی طاقت سے اپنا مقام حاصل کئے ہیں۔ سماج کے سدھا ر کے لئے ہر ایک کو سیاست سے باہر آنا ہوگا۔ سیاست میں نفرت اور خلیج پیدا ہوتی ہے، سماجی پروگراموں میں مطلق سیاست نہ کریں۔ نجی اور ذاتی طورپر سیاست کریں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے باہر چھوڑدینے کی غلطی نہ کریں، جس زمانے میں دلتوں کو جانوروں سے بھی بدتر نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اس زمانے میں برہم شری نارائن گرو نے تمام دنیا کو ایک خاندان ہونے کی تعلیم دی ہے۔ بھٹکل کی زمین مساوات کی زمین بن گئی ہے۔
سوامی جی نے عوام کو جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ صرف سوامیوں سے ہی کسی سماج کی تعمیر ممکن نہیں ہے، عوام بھی اپنی بساط بھر خدمت خلق کاکام انجام دیں گے تو ہی سماج کی ترقی ہوگا۔ لیکن وید وں اور اپنشد وں پر عمل پیرا لوگوں میں خلوص ہونا چاہئے۔ اتنا بڑا پروگرام کی کسی سیاست دان سے نہیں ہورہاہے، یہ سب بھگوان کی کرپا ہے، مائیں اپنے بچوں کو بہتر اخلاق سکھائیں، کوئی مندر کا افتتاح ہونے یا تجدید ہونے سے سب کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہفتہ میں دو ایک مرتبہ مندر میں بیٹھ کر بھگوان کو یاد کریں ، تب کہیں جاکر بھگوان کی دیا ہوتی ہے،اطمینان ملتاہے، کسی بھی سماج کے لئے اجتماعیت بہت ضروری ہے، ہاں ! یا درکھیں دیگر مذاہب والوں کو بھائی بھائی کے طورپر عزت و احترام کریں۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے سرسی ماری کامبا مندر انتظامیہ کے صدر وینکٹیش نائک اور اننت نائک نے بھی خطاب کیا۔ نامدھاری سماج سنگھ کے صدر ڈی بی نائک نے پروگرام کی صدارت کی۔ ڈائس پر جے این نائک، ایل ایس نائک، ایشور نائک، راجیش نائک، گوند نائک سمیت مندر انتظامیہ کے عہدیداران موجود تھے۔