ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: ماولّی ون گرام پنچایت کی عوامی میٹنگ میں مسلمانوں کے خلاف ہتک آمیز باتیں کہنے پر دس ممبران نے میٹنگ سے کیا واک آوٹ

بھٹکل: ماولّی ون گرام پنچایت کی عوامی میٹنگ میں مسلمانوں کے خلاف ہتک آمیز باتیں کہنے پر دس ممبران نے میٹنگ سے کیا واک آوٹ

Thu, 24 Mar 2022 18:35:02    S.O. News Service

بھٹکل 24 مارچ (ایس او نیوز)  تعلقہ کے مرڈیشور میں واقع ماولّی ون کی  عوامی  میٹنگ میں بعض لوگوں کی طرف سے  مسلم ممبران کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آنے گالی گلوچ کرنے اور مرڈیشور میں مسلمانوں کو دکانیں لگانے  کی اجازت نہ دینے کی باتیں  کرنے سے ناراض  پنچایت کے مسلم ممبران نے میٹنگ  کو درمیان میں ہی چھوڑ کر  واک آوٹ کردیا اور اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی۔

پتہ چلا ہے کہ جمعرات  صبح گیارہ بجے ماولّی گرام پنچایت میں عوامی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں  تعلقہ پنچایت انجینئر  سمیت میڈیکل آفسر و دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ مادھوی موگیر کی صدارت میں  منعقدہ میٹنگ میں  ممبران کے ساتھ ساتھ مقامی علاقہ کے لوگ بھی اپنے اپنے مسائل کے حل کے لئے میٹنگ میں شریک ہوئے تھے جس کے دوران  تین  ، چار  لوگوں نے اچانک مسلمانوں  کو نشانہ بنانا شروع کردیا اور  مسلمانوں کو مرڈیشور سمندر کنارے  واقع   دکانوں  (باکڑوں)  سے بے دخل کرنے سمیت  نفرت پھیلانے والی باتیں کہنی شروع کردیں، اس موقع پر میٹنگ میں موجود نائب صدر شبینہ  عبدالستار نے اُنہیں روکنے کی بھی کوشش کی، مگر  باتیں بڑھتی چلی گئیں ، اس سے پہلے کہ ماحول مزید خراب ہوجاتا، میٹنگ میں موجود  10 مسلم اراکین نے میٹنگ سے ہی واک آوٹ کرنا مناسب سمجھا اور ہال سے باہر نکل گئے۔

واک  آوٹ کرنے والوں میں شامل پنچایت ممبر ناصر شیخ نے بتایا کہ میٹنگ میں   کانگریس  ودیگر پارٹیوں کے اراکین بھی موجود تھے، مگر کسی نے  اُن لوگوں کو  نفرت پھیلانے والی باتوں سے باز آنے یا اُنہیں روکنے کی کوشش نہیں کی، مسلم اراکین کو اس بات کی بھی شکایت ہے کہ  میٹنگ میں جس  طرح کی    نفرت انگیز باتیں کی گئی،میٹنگ کے دیگر اراکین کو اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا اور اس کی مذمت کی جانی چاہئے تھی، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ناصر شیخ نے  بتایا  کہ  مرڈیشور میں   شمشان کو لے کر ایک زمین پر تنازعہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور مسئلہ کی یکسوئی ابھی تک نہیں ہوسکی ہے،   پہلے ایک شخص  نے اُسی کو بنیاد بناکر  باتیں کرنی شروع کردیں، تو ہم نے کہا کہ  شمشان کے لئے ضلعی انتظامیہ نے اگر کوئی لینڈ مختص کی ہے، تو پھر اُس کی نشاندہی کی جانی چاہیئے کہ کہاں سے کہاں تک وہ زمین ہے، لیکن اس کے برعکس دوسروں  کے پرائیویٹ لینڈ میں  نعشوں کی آخری رسومات  ادا کی جاتی ہے، جو بالکل غلط ہے، اسی بات کو  لے کر مزید تین لوگ  کھڑے ہوگئے اور  مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی،  اس موقع پر کسی نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا کہ ہم یہاں ہندوتوا کو لاکر ہی دم لیں گے ، جس پر    ماحول خراب ہونے کے آثار نظر آنے لگے ۔ اراکین کا کہنا ہے کہ حالات دیکھ کر ایسا لگا کہ  یہ چاروں  لوگ  باقاعدہ پلان بناکر میٹنگ میں  شریک ہوئے  ہیں  کہ ماحول کو خراب کرنا ہے۔ پنچایت  اراکین  کا خیال ہے  کہ  دی کشمیر فائلز فلم دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے تعلق سے جس طرح کی نفرت پھیلائی جارہی ہے، یہ بھی اُسی کا اثر ہوسکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  ماولّی ون میں جملہ 27 اراکین ہیں جس میں 12 مسلمان ہیں اور ان  بارہ مسلم ممبران میں سات خواتین ہیں۔ پتہ  چلا ہے کہ آج کی  عوامی میٹنگ میں  غیر مسلم عوام  اپنے مسائل لے کر اچھی خاصی تعداد میں شریک ہوئے تھے، البتہ گرام سبھا میں  مسلمانوں کی شرکت ندارد تھی۔


Share: