بھٹکل:5/مئی (ایس اؤنیوز) بھٹکل تعلقہ کے اکثر علاقوں کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والے کڈوین کٹا ڈیم ندی کو کچھ لوگ خفیہ اور غیر قانونی طورپر پمپ سٹ جوڑ کر اپنے باغوں کو پانی سپلائی کررہے ہیں، اس سلسلے میں ہیسکام محکمہ کا عملہ معائنہ کرکے متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنےکی تعلقہ پنچایت صدر ایشور نائک اور تعلقہ پنچایت افسر سی ٹی نائک نے ہیسکام افسران کو جمعہ کو منعقدہ بھٹکل تعلقہ کے ڈی پی میٹنگ میں تاکید کی۔
میٹنگ کے دوران مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے پنچایت آفیسر سی ٹی نائک نے بتایا کہ امسال موسم گرما میں عوام پینے کے پانی کے لئے پریشان ہیں، ہر جگہ پانی کی قلت ہے ، لوگ ادھر ادھر بھاگ دوڑ کررہے ہیں، تعلقہ کے عوام کڈوین کٹا ڈیم کے پانی پر ہی زیادہ منحصر ہیں،ڈیم میں پانی کی سطح کم ہونا تشویش کی بات ہے ، ان سنگین حالات میں ڈیم کی ندی سے غیرقانونی طورپر پمپ سٹ جوڑ کر پانی کو باغوں کو سپلائی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، ہیسکام افسران پمپ سٹ کی جب منظوری دیتے ہیں تو کس کے لئے ، کہاں جوڑا جائے گا وغیرہ کا معائنہ کرنے کے بعد منظوری دینے کی ہدایت دی۔
ہیسکام آفیسر شیوانند نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ولیج اکاؤنٹنٹ کی طرف سے دی گئی کنوئیں کی سند پر پمپ سٹ کو منظوری دی جاتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر موٹروں کا غلط استعمال ہورہاہے تو ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ پنچایت آفیسر مطمئن نہ ہوتے ہوئے دوبارہ تاکید کی کہ جناب ! ڈیم کی ندی کے پورے کناروں کا سروے کرو اور دیکھو کہ دی گئی منظوری کا کیسے غلط استعمال ہورہاہے، جو بھی غیرقانونی طورپر پمپ سٹ لگائے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
میٹنگ میں کائی کنی ، بینگرے علاقہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ درپیش ہونے پر ضلع پنچایت آفیسر کو توجہ دلائی گئی ۔ کائی کنی میں موٹر خراب ہوکر 15دن ہوگئے ابھی تک درستگی نہیں ہوئی ہے، بینگرے علاقہ کے اولمنے، ششی ہتلو، مالے کوڈلو میں مسئلہ سنگین ہے، ممبران نے سوال کیا کہ 50لاکھ روپیوں کی لاگت سے نافذ کئے گئے منصوبے سے پانی سپلائی نہیں ہورہا ہے تو ایسے منصوبے کا فائدہ کیا ہے۔ پنچایت صدر نے اس تعلق سے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ صرف ٹھیکداروں کی جیب بھرتی کرنے کے لئے ایسا کام کرتے ہیں
ضلع پنچایت انجنئیر فیاض نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ فوری طورپر مسئلہ کو حل کرونگا۔
اسٹانڈنگ کمیٹی کے چیرمن وشنو دیواڑیگا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں موت کی سند (ڈیتھ سرٹی فیکٹ) سمیت ضروری دستاویزات کے لئے عوام کو بے کار میں تحصیلدار دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جارہاہے، انہوں نے 3-3مہینوں تک فائل یوں ہی رکھ کر معاملہ کو پس پشت ڈال دینےکی آخر وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پیسہ لے کر کام کرنے والے عملہ کی ہمیں ضرورت نہیں ہونے ہے۔