نئی دہلی یکم جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ایک خصوصی عدالت نے آج انڈین مجاہدین کے رکن کے الزام میں گرفتار عبد الواحد کی عدالتی حراست ایک ماہ کیلئے بڑھادی۔ کرناٹک کے ساحلی شر بھٹکل کا رہائشی 32سالہ عبدالواحد کوآج جمعہ کو خصوصی جج راکیش پنڈت کے سامنے پیش کیا گیاتھا جنہوں نے قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے )کی جانب سے کی گئی حراست بڑھانے کی درخواست کو قبول کیا۔ یاسین بھٹکل کے مبینہ چچا زادبھائی عبدالواحد کوپہلے دبئی میں حراست میں لے کر انڈیا روانہ کیا گیا، پھر 20مئی کو اس کے دبئی سے نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پراُترتے ہی این آئی اے اہلکاروں نے پکڑا تھا۔ این آئی اے نے ستمبر 2012میں درج اپنی ایف آئی آر میں الزام لگایا تھا کہ آئی ایم اراکین نے ملک اور دیگر جگہ موجود دیگر آئی ایم سیل کے ساتھ مل کر دہشت گرد انہ کارروائیوں کو انجام دینے کی سازش رچی اور پاکستان میں واقع آقاؤں کی فعال مدد اور حمایت سے بم دھماکے کرکے بھارت خاص طور پر دہلی میں مختلف اہم مقامات کونشانہ بنانے کی تیاریاں کی تھیں اور اس طرح حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑی تھی ۔ خیال رہے کہ اس نوجوان کی گرفتاری پر ان کے بھی گھروالوں نے این آئی اے کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے سخت مذمت کی تھی اور عبدالواحد کو بے قصور قرار دیا تھا