ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں 2 جنوری کو ہوگا پہلا اور منفرد خواتین کا بلڈ ڈونیشن کیمپ؛ خواتین سے کثیر تعداد میں شریک ہونے اور خون عطیہ کرنے کی درخواست

بھٹکل میں 2 جنوری کو ہوگا پہلا اور منفرد خواتین کا بلڈ ڈونیشن کیمپ؛ خواتین سے کثیر تعداد میں شریک ہونے اور خون عطیہ کرنے کی درخواست

Thu, 31 Dec 2020 17:11:19    S.O. News Service

بھٹکل 31/ڈسمبر (ایس او نیوز)  ایک انسان کی جان   بچانا دراصل پوری انسانیت کو بچانے جیسا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھٹکل میں جب بھی کسی مریض کو خون کی ضرورت پیش آتی ہے یا کہیں پر خون عطیہ کیمپ کا انعقاد ہوتا ہے تو   بھٹکل کے نوجوان اپنا  خون عطیہ کرنے فوراً سامنے آجاتے ہیں، انسانی ہمدردی کی معراج بھی یہی ہے کہ آپ ایسی چیز عطیہ کرکے دوسروں کی زندگی بچانے میں مدد کریں جو خود  آ پ کیلئے بھی  بہت قیمتی ہو۔ پہلے بھٹکل میں ہی خون  عطیہ کرنے پر اُسی وقت مریض کو خون دینا ممکن تھا، مگر اب بلڈ بینک کے ذریعے ہی خون حاصل کیا جاسکتا ہے جس کےلئے کنداپور  ، اُڈپی یا مینگلور جانا ضروری ہوجاتا ہے، البتہ  اس طرح کے کیمپوں کے انعقاد کی صورت میں  اگر کسی شخص کو ایمرجنسی  خون کی ضرورت  پڑتی ہے  تو  ان بلڈ بینکوں کے ذریعے فوری خون فراہم کیا جاتا ہے۔

اسی مناسبت سے  بھٹکل میں 2/جنوری کو بلڈ ڈونیشن  کا ایک منفرد کیمپ منعقد ہورہا ہے جس میں صرف خواتین کو شریک ہونےکی دعوت دی گئی ہے۔ اس کیمپ میں صرف خواتین شامل ہوں گی اور  اپنا خون عطیہ کریں گی۔ یہ کیمپ اس مناسبت سے بھی منفرد ہوگا کہ مسلمان خواتین کے ساتھ ساتھ غیر مسلم خواتین اور سماجی کارکنان بھی اس کیمپ کا حصہ بنیں گی۔

بھٹکل تعلقہ سرکاری اسپتال کی انچارج ڈاکٹر سویتا کامتھ نے بتایا کہ   اس کیمپ کو منعقد کرنے میں ویمنس کلب بھٹکل کے ساتھ ساتھ  گرلس اسلامک آرگنائزیشن، جماعت اسلامی ہند (ویمنس وینگ)،  آشاورکرس  اور  بھٹکل تعلقہ اسپتال سمیت  اُڈپی  بلڈ بینک  تعاون کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کو اس کیمپ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے اور مریضوں کی جان بچانے کےلئے اپنا خون عطیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

کیمپ کے تعلق سے بھٹکل ویمنس سینٹر کی ایک ذمہ دار نبیرہ  محتشم نے بتایا کہ  بھٹکل میں  متعدد سماجی ادارے اور اسپورٹس سینٹرس اپنے اپنے طور پر  اس طرح کے بلڈ بینک منعقد کرتے رہتے ہیں مگر اُن کیمپوں میں صرف مرد حضرات ہی شریک ہوتے ہیں، مگر اس بار تعلقہ اسپتال کے تعاون سے  ہم پہلی بار  صرف خواتین کےلئے اس کیمپ کا انعقاد کررہے ہیں ،   اس  کیمپ کے انعقاد سے  مسلم خواتین سمیت غیر مسلم خواتین بھی اپنا خون عطیہ کرسکیں گی اور یہ بلڈ ڈونیشن کیمپ ہندو مسلم بھائی چارگی کے لئے بھی ایک مثال بنے گا۔

ڈاکٹر سویتا کامتھ اور نبیرہ  محتشم دونوں نے بھٹکل کی ہندو مسلم خواتین  سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کیمپ میں شریک ہوکر اسے کامیاب بنائیں۔

کیمپ 2/جنوری بروز سنیچر حنیف آباد  میں واقع  بھٹکل ویمن سینٹر میں صبح نو بجے سے دوپہر 2 بجے تک  منعقد ہوگا، ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر کیمپ کا افتتاح کریں گی،  تعلقہ اسپتال کی گائنوکولوجسٹ ڈاکٹر  شمس نور مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گی،  اُڈپی بلڈ بینک سے ڈاکٹر وینا کماری،  بھٹکل تعلقہ اسپتال کی انچارج  ڈاکٹر سویتا کامتھ،   ڈاکٹر  فاطمہ تنعیم   سمیت ویمنس سینٹر کے ذمہ داران اس موقع پر موجود ہوں گے۔

خیال رہے  کہ ہر انسان کے اندر تقریباً ایک لیٹر یا 2سے 3بوتلیں اضافی خون ہوتاہےاور ماہرین صحت کے مطابق ہر تندرست انسان کو سال میں کم سے کم دوبار خو ن عطیہ کرنا چاہئے۔ اس سے صحت پر منفی کے بجائے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ دیے جانے والے خون کی کمی تین دن کے اندر پوری ہوجاتی ہے اور56دن کے اندر خون کے100فیصد خلیے دوبارہ تیار ہو جاتے ہیں اور خون کے یہ خلیے پرانے خلیوں کی نسبت زیادہ صحتمند ہوتے ہیں۔ نیا خون بننے کے عمل سے قوت مدافعت بڑھتی ہے، موٹاپے میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہو جاتاہے اور کولیسٹرو ل بھی قابو میں رہتا ہے۔


Share: