بھٹکل:9/نومبر (ایس او نیوز) بیرونی زرمبادلہ کے ذریعے ملک کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دینے والے چھوٹے سے شہر بھٹکل میں مرکزی حکومت کے ذریعے 500اور1000روپئے کے نوٹوں کے چلن کو غیر قانونی قرار دئیے جانےپر الگ الگ خیالات کا اظہار کیا جارہاہے۔
یہ مانا جاتاہے کہ بھٹکل میں عام طورپر ذات پات، دھرم کی تفریق کے بغیر زیادہ تررقم کی سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ اور سونے کی خریداری میں کی جاتی رہی ہے، ادھر کچھ برسوں سے متعلقہ میدانوں کی سرمایہ کاری میں تیزی آنے سے انکار نہیں کرسکتے ۔ تعلقہ میں شہری سطح کی بات کریں تو ایک گنٹہ زمین کے لئے 2.5لاکھ روپئے قیمت بتائی جاتی ہے لیکن بلیک منی کے طورپر ایک گنٹہ کی قیمت 40 لاکھ روپئے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں زبردست منافع کو دیکھتے ہوئے سیکڑوں لوگ اسی روزگار سے جڑگئے ہیں۔ غورکرنے والی بات یہ ہے کہ یہاں کے امیر منگلورو سمیت مختلف شہروں میں فلیٹ خریدنے کے لئے آگے بڑھے تھے،یہاں کے کم سے کم 15-20 فی صد لوگوں نے صرف منگلورو میں ہی سرمایہ کاری کی ہیں۔ ماناجارہاہے کہ نوٹوں کے چلن کو غیر قانونی قراردئیے جانے سے رئیل اسٹیٹ کے دھندے کو بڑا نقصان ہوگا۔ رئیل اسٹیٹ کی سرمایہ کاری میں کافی کمی آئے گی تو سونے کی سرمایہ کاری میں زبردست اضافہ ہونےکےبھی امکانات ہیں، اسی طرح بعض لوگ بینک وغیرہ کے معاملات سے دور رہ کر حوالہ کے ذریعے رقم کی تبدیلی کیا کرتے تھے، اسی طرح افسران کا کہنا رہتا ہے کہ ملک دشمنی کے کرتوت میں حوالہ کے ذریعے ہی رقم کا مبادلہ ہوتا ہے، اب حکومت یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کے اس اچانک اقدام کی وجہ سے یہ سب بند ہوجائیں گے۔
حالیہ پیچیدگیاں : بغیر کسی پیشگی اطلاعات کے مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹوں کو رد کئے جانے سے عوام میں ایک طرح کی بے چینی اور پریشانی کا عالم ضرور ہے ، الکٹرانک میڈیا کی طرف سے خبریں نشر ہوتے ہی لوگ اے ٹی ایم کی طرف دوڑ پڑے ، منگل کی دیررات تک قطار میں کھڑے رہ کر رقم ڈراکرتے دیکھے گئے۔ بدھ کی صبح سے ہی بھٹکل کی مچھلی مارکیٹ ، ترکاری مارکیٹ، دوکانوں وغیرہ میں کوئی بھی 500یا 1000روپئے کے نوٹ لینےتیار نہیں ، جن نوٹوں پر لوگ جان دیتے تھے آ ج اس کو دیکھتے ہی دور جارہے تھے، اور کچھ لوگ چلر کے لئے چکر لگاتے ہوئے دیکھے گئے۔ رکشا، بسوں، ٹمپو وغیرہ میں اسی کی گہما گہمی ۔ اسی بات کو لے کر نجی اسپتال میں نوک جھونک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ہوٹلوں میں دونوں کرنسیوں پر مکمل پابندی ہے، خاص کر یومیہ مزدوروں اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرنے والوں کے لئے بڑی تکالیف کا سامناہے، دبئی مارکیٹ سمیت تقریباً بازار میں خرید و فروخت دھیمی اور کہیں نہیں کے برابر رہی ۔ بینک بند ہونے کے نتیجے میں غیر اعلانیہ چھٹی کا سماں نظر آیا۔