بھٹکل:17؍فروری (ایس او نیوز) بھٹکل ، مرڈیشور ، شرالی سمیت تعلقہ کے مختلف مقامات پر مقامی سمندری سیپی کا گوشت کھانے سے سینکڑوں لوگ بیمار ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
گزشتہ ایک دومہینوں سے بھٹکل ، شرالی اور مرڈیشور کے بازار وں میں گہرے پیلے رنگ کے بڑے سائز کے سمندری سیپی بیچے جارہے ہیں، ایسا پہلی مرتبہ ہواہے کہ سمندری سیپی سے جان کو خطرہ محسوس ہونے لگاہے۔ جمعہ کو سمندر ی سیپی خرید کر رات میں سالن کے ساتھ کھانا کھانےپر ایک ہی خاندان کے 10افراد آدھے گھنٹے میں ہی الٹی کرنے لگے تو انہیں شرالی کے کوٹے باگلو سرکاری اسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد زائد علاج کے لئے بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل کیاگیا۔
موڈشرالی ،کیریگدے منے کے سنیا کوپا نائک، کیشوو نائک، یوگیش، درگیا، تمپا ، مادیوی، گیتا ، بھوانی ، وید، پرتھم، نرنجن سیپی کھانے سے بیمار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ فی الحال تمام صحت یابی کی طرف مائل ہیں۔ اسی طرح تعلقہ کے بینگرے حدود کے ملاری ، مرڈیشور میں بھی سیپی کھانے کے بعد الٹی کرنےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بھٹکل اور اطراف کے دیہات میں سیپی کھانے سے بیمار ہونے کے واقعات ایک ایک کرکے باہر آرہے ہیں۔
شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کرناٹکا کے ساحلی پٹی پر گوشت خوروں میں خاص مقام رکھنے والی سیپی میں کیمکل کی ملاوٹ کی گئی ہے۔ شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ کہ 6ماہ تک سیپیوں کو جمع رکھاجاتاہے اورگاہکوں کو تازہ بتانے کے لئے کیمکل چھڑکا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں تعلقہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مورتی بھٹ نے کہاکہ عوام کی صحت پر برے اثرات ڈالنے والی سیپیوں کو ضبط کرلیاجائے گا، انہوں نے اس بات کی وارننگ دی کہ کمائی کی لالچ میں ایسے سیپیوں کی فروخت کی کوشش کی گئی تو ان کے خلاف کیس درج کیا جائے گا۔