بھٹکل: 4؍نومبر (ایس او نیوز) حقِ اطلاع قانون (آر ٹی آئی ) ایک موثر و نتیجہ خیز ہتھیار ہے، عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس خاموش و کامیاب ہتھیار کا بھر پور استعمال کریں۔ اس قانون کے تحت ہم ملک ، ملت ،حکومت سمیت کئی ایک سماجی خدمات کو انجام دے سکتےہیں۔کلبرگی سے تشریف فرما اے پی سی آر کے ذمہ دار ،مشہور ومعروف اور کامیاب آر ٹی آئی کارکن شیخ شفیع احمد نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
وہ یہاں اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) بھٹکل یونٹ کے زیر اہتمام بروز اتوار 4نومبر کو رابطہ ہال میں بعد نماز عصر منعقد ہ ایک روزہ کامیاب ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے عوام سے مخاطب تھے۔ موصوف نے کہاکہ گرچہ ملک کے حالات بد ترہیں، فرقہ پرست کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں، مین اسٹریم میڈیا کو خریدا گیا ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشیل میڈیا ایک کاؤنٹر میڈیا کے طورپر بہتر کام کرتا نظر آرہاہے۔ ان حالات میں حق اطلاع یعنی آرٹی آئی کے ذریعے جو ایک طاقتور ہتھیار ہے ہم جو چاہیں ان معلومات، جانکاری کو حاصل کرکے بہتر سے بہتر کام کرسکتے ہیں۔ ملت کے پیشانی پر لگے داغ دھبوں کو دھو سکتےہیں عوام کو حقائق سے آگاہ کرسکتے ہیں، وقت کی حکومت کو بھی سیدھا کرسکتے ہیں بس یوں سمجھئے کہ یہ کام بھی ایک عبادت ہے ۔
موصوف نے آر ٹی آئی کے میدان میں اپنے تجربات کی روشنی میں کہاکہ اے پی سی آر کے ذریعے جو قانونی کام انجام دئیے جارہے ہیں اس کے لئے فنڈ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ اس میدان میں کام کرتےہیں ان کی قوم و ملت کے رئیس حضرات بھرپور مدد و تعاون کریں تاکہ ایسے کئی سماجی کاموں کو آسانی سے انجام دیاجاسکے۔ اس موقع پر انہوں نے بیدر اور کلبرگی کے دو واقعات کا خاص کر تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک معصوم آٹو ڈرائیور کو پھنسایا گیا ۔ جس کو ضلعی عدالت نے پھانسی کی سزاسنائی تو ہم نے اس کی مدد کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے اس کے پورے قضیے کو ہی رد کروادیااور ایک نام میں مماثلت کی وجہ سے پھنسے فرد کو قانون کی مدد سے چھٹکار ادلوایا۔ اس کے علاوہ مندر، مسجد ،سرکاری زمین وغیرہ کے متعلق جانکاری حاصل کرتے ہوئے حکومت کی بھی مدد کی ہے اگر ہم سماجی بہتری کے لئے کام کریں گے تو سماجی اور سرکاری سطح پر ہمیں اچھی نظروں سے دیکھا جاتاہے جس کا ہمیں خود تجربہ بھی ہے۔ اسی طرح جیل میں قید کئی معصوم وغریب نوجوانوں کو رہا کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایک اندازے کے مطابق 90ہزار نوجوان جیلوں میں بند ہیں۔ موصوف نے عوام پر زور دیا کہ وہ آرٹی آئی کا بہتر استعمال کرنے کے لئے آگے بڑھیں البتہ اس سلسلے میں قانونی نظام سے جانکاری ضرور حاصل کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے بھٹکل اے پی سی آر کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ میری آرزو تھی کہ بھٹکل میں ایسا ایک ورکشاپ منعقد ہو آج الحمدللہ مرد خواتین پر مشتمل یہ کامیاب ورکشاپ مستقبل میں قوم وملت کے لئے نئی راہیں کھولے گا۔
اعزازی مہمان کے طورپر شریک صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب ؔ نے اے پی سی آر کی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے چند برسوں سے اے پی سی آر کی جانب سے بہت ہی مفید و نتیجہ خیز کارروائیاں انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے ملکی حالات اور موجودہ حکومتوں کے رویہ پر ایک نباض دوراں کی طرح تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت جمہوریت، قانون، دستور سب خطرے میں ہیں، فسطائی طاقتیں راست دستور پر حملہ کررہی ہیں، ایک مخصوص نظریہ کو تھوپنےکی کوششیں کی جارہی ہیں۔ حزب مخالف کو ناکارہ بنادیاگیا ہے یا بن گئی ہے۔ ایسے میں اے پی سی آر کے تحت جو بھی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔
اے پی سی آر اترکنڑا ضلع کے ناظم مولانا سید زبیر نے صدارتی کلمات پیش کرتےہوئے کہاکہ اے پی سی آر کے ذریعے کئی ایک خانگی اور ازدواجی مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ سنگین مسائل کو بھی سلجھانے اور معصوم کی رہائیوں کے لئے کوششیں جاری ہیں۔
مولانا نے عوام سے کہاکہ جب ہم اپنے نوجوانوں کو ایسے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں تو مختلف بہانوں کے ذریعے اس کو کھو دیتے ہیں ، جب کہ ہمیں ترجیحات کی بنیاد پر کام کرنےکی ضرورت ہےانہوں نے ورکشاپ کی جانکاری دیتے ہوئے کہاکہ مرد وخواتین سمیت کل 50سے زائد شرکاء نے ورکشاپ میں شریک ہوکر تربیت حاصل کی۔ خاص کر طالبات اور خواتین کی شرکت پر انہوں نے کہاکہ انہیں صرف پکوان کی حد تک نہ رکھیں بلکہ ان میں جو خلقی صلاحیتیں ہیں ان سے ملت کا بھرپور کام لیں۔
مہمان خصوصی شیخ شفیع احمد کے متعلق مولانا نے بتایا کہ وہ اب تک 2000سے زائد آر ٹی آئی عرضیاں داخل کرچکے ہیں۔ کئی مرتبہ حکومت اور اعلیٰ افسروں کو بھی مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو انجام دیں۔ کئی معاملات میں وہ کامیاب ہونے کی بات کہی۔
اختتامی تقریب کا آغازحافظ شفیق حسن کی تلاوت قرآن سے شروع ہوا ۔ ورکشاپ کے کنونیر اسماعیل ضوریز نے معززمہمانوں اور مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔اے پی سی آر کے ڈسٹرکٹ سکریٹری قمر الدین مشائخ نے مختصراً اے پی سی آر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی ۔ورک شاپ میں شریک ہوئے طلبا وطالبات نے بھی اپنے تاثرت پیش کئے ۔ ورکشاپ میں شریک ہوئے ہرایک شریک کو سند سے نوازاگیا۔ اسماعیل کاکڑے اور ابولخیر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اسماعیل ضوریز کے شکریہ کلمات سے تقریب کا اختتام ہوا۔تواضع کا بھی اہتمام تھا۔ ڈائس پر جماعت اسلا می ہند بھٹکل کے امیرمقامی مجاہد مصطفی سابق امیر مقامی جناب قادر میرا ں پٹیل موجود تھے۔
اففتاحی تقریب :تلاوت قرآن سے ایک روزہ آرٹی آئی ورکشاپ کا آغاز ہوا۔ورکشاپ میں شریک سبھی مرد وخاتون مندوبین کو مہمان خصوصی شفیع احمد کلبرگی نے 2005میں جاری کردہ آرٹی آئی قانون کے متعلق مفصل جانکاری دیتے ہوئے اس کے اختیارات اور کام کرنے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں شریک ہوئے تمام افراد کو انہوں نے باقاعدہ آر ٹی آئی فارم پُرکرنے اور دیگر کاموں کی عملی مشق کرائی ۔ ساتھ ہی آرٹی آئی کی جانکاری پر مشتمل کئی نقول دئیے۔ ضلعی صد رمولانا سید زبیر نے پروگرام کی صدارت کی تو ضلعی سکریٹری قمر الدین مشائخ نے استقبال کرتے ہوئے مہمان کا تعارف پیش کیا۔ ورکشاپ کے کنونیر اسماعیل ضوریز نے ورکشاپ کی غرض و غایب بیان کی۔ طالش شباب نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔