ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلوروکے اپارٹمنٹوں میں پانی کی صفائی کا پلانٹ نصب کرنا لازمی : پرمیشور

بنگلوروکے اپارٹمنٹوں میں پانی کی صفائی کا پلانٹ نصب کرنا لازمی : پرمیشور

Wed, 21 Nov 2018 00:01:34    S.O. News Service

بنگلورو،20؍نومبر(ایس او نیوز) نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ شہر میں تعمیر ہونے والے تمام نئے اپارٹمنٹوں میں گندے پانی کی صفائی کے لئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آج کبن پارک میں ایس ٹی پی میں صاف کئے گئے پانی کے ذریعے تالاب بھرنے اور اسے آبپاشی کے لئے استعمال کرنے کے پراجکٹ کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپارٹمنٹوں سے چونکہ بہت زیادہ گندہ پانی بہایا جاتا ہے ، اسی لئے اپارٹمنٹ مالکوں پر لازمی ہے کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر ایس ٹی پی تعمیر کریں۔ انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق شہر بنگلور میں روزانہ 1440 ملین لیٹر گندہ پانی بہایا جاتا ہے، ان میں سے صرف 1052 ملین لیٹر پانی کو صاف کرکے اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کی سہولت بی ڈبلیو ایس ایس بی کے پاس ہے۔ چلگٹہ پورہ کی کے سی ویالی میں جو یونٹ تعمیر کی گئی ہے وہاں 515 ملین لیٹر گند ے پانی کی صفائی کا منصوبہ ہے۔ لیکن اس یونٹ کو پورا کرنے میں 2020 تک کا عرصہ لگے گا۔ اس پراجکٹ کے مکمل ہونے کے بعد شہر سے بہنے والے 1572ملین لیٹر گندے پانی کی صفائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بی بی ایم پی کی حدود میں شامل ہونے والے 110 دیہاتوں سے روزانہ 129 ملین لیٹر گندے پانی کو بہایا جاتا ہے، بی ڈبلیو ایس ایس پی اپنے نئے پلانٹ کی تکمیل کے بعد اس پانی کو بھی کو صاف کرے گی۔ کورمنگلا کی چلگٹہ یونٹ میں 480ملین لیٹر گندے پانی کی پروسیسنگ کی جارہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہوئے مزید 150ملین لیٹر پانی کی صفائی کی گنجائش رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایاکہ ان یونٹوں میں صاف کئے جانے والے پانی میں سے 60 ملین لیٹر پانی شہر کے تالابوں کو بھرنے کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ نائب وزیراعلیٰ نے بتایاکہ اگر شہر کے سبھی اپارٹمنٹوں میں گندے پانی کے ٹریٹمنٹ کا پلانٹ قائم ہوجائے گا تو شہر میں بہنے والے گندے پانی کی مقدار میں کافی کمی آسکتی ہے۔ مختلف کارخانوں کی طرف سے بہائے جانے والے کیمیاوی پانی کی وجہ سے آلودگی میں اضافے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ان کارخانوں نے اسی طرح کیمیاوی پانی بہانے کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کارخانوں کے مالکوں کوبھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بھی اپنے احاطے میں ایس ٹی پی قائم کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھائیں۔ انہوں نے بتایاکہ گندے پانی کی صفائی کے ذریعے اب تک شہر کے سات تالابوں کو بھر دیا گیا ہے، آنیکل میں 185ملین لیٹر پانی صفائی کے بعد بہانے کی مانگ کی گئی ہے ، آنے والے دنوں میں اس پانی سے بجلی کی پیدوار پر بھی غور کیا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق گندے پانی کی صفائی کے بعد اگر اسے بجلی کے پیداوار کے استعمال میں لایا جائے تو بجلی کی مانگ کو چالیس فیصد تک پر کیا جاسکتا ہے۔


Share: