ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور میں دس سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کیخلاف سوشیل میڈیا پر برہمی؛ 68 سالہ پجاری گرفتار

بنگلور میں دس سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کیخلاف سوشیل میڈیا پر برہمی؛ 68 سالہ پجاری گرفتار

Sat, 28 Nov 2020 11:53:29    S.O. News Service

بنگلورو،28؍نومبر(ایس او نیوز ) دس سالہ لڑکی کے مبینہ عصمت  ریزی پر 68 سالہ پجاری کی گرفتاری کی خبر عام ہوتے ہیں ٹوئٹر پر# زانی پجاری ٹرینڈ کرنے لگا جس میں عوام نے جم کر پجاری کی اس طرح کی حرکت پر سخت غصے کا اظہار کیاہے۔

چہارشنبہ کو انگریزی اخبار دی ہندو  میں خبر شائع ہوئی تھی کہ دیون ہلی پولیس نے چکبالاپور سے وینکٹ رمنپا نامی پجاری کو گرفتار کیا ہے جس پر منگل کی شام کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کا الزام ہے۔ یہ واردات پجاری کی بیٹی کے گھر میں پیش آئی جہاں وہ عارضی طور پر منتقل ہوا تھا جو مندر کے احاطہ میں موجود ہے۔

بتا یا جاتا ہے کہ وینکٹ رمنپا اپنے پجاری داما د کے کہنے پر   مندر کی دیکھ بھا ل کرنے اُس کے گھر پر عارضی طور پر مقیم تھا۔  خبر ہے کہ مقامی سرکاری دواخانہ کے ڈاکٹرس نے لڑکی کا معائنہ کر کے عصمت ریزی کی توثیق کردی ہے۔  ڈپٹی کمشنر پولیس (نارتھ ایسٹ ) سی کے بابا نے بتایا کہ  منگل کے روز وینکٹ رمنپا نے لڑکی کو مندر کے باہر کھیلتے دیکھا اور مبینہ طور پر اسے چاکلیٹ کا لالچ دیا۔ پھر وہ اسے اپنی بیٹی کے گھر لے گیا اور اس کی عصمت ریزی کی۔بعد ازاں شام کو  جب لڑکی گھر واپس نہیں آئی تو اس کی ماں نے اسے تلاش کیا۔

مندر کے سامنے ایک پھول فروش نے اسے بتایا کہ وہ پجاری کے گھر گئی تھی۔ لڑکی پجاری کے گھر کے باہر روتی ہوئی دستیاب ہوئی۔ ماں اور کچھ پڑوسیوں نے فوری پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد لڑکی نے سارا ماجرا بیان کیا۔ مندر کے سی سی ٹی وی کیمرہ کے فوٹیج ، لڑکی کی طبی رپورٹ اور پھول فروش کے بیان کی بنیاد پر وینکٹ رمنپا کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس کے خلاف پوکسو اور تعزیرات ہند کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

اس واقعہ پر سوشل میڈیا پر شدید برہمی ظاہر کی جارہی ہے اور لڑکی کی ہولناک عصمت ریزی کا تقابل چند سال قبل کٹھوعہ میں 8 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی سے کیا جارہا ہے۔ وہ لڑکی کو ’’بنگلورو کی آصفہ ‘‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔ کچھ نے بالخصوص بی جے پی سے تعلق  رکھنے والے سیاسی قائدین کو بھی واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ۔

ایک صارف نے پوچھا ’’میں کسی بھی بی جے پی لیڈر  یا  حامی کو اس ٹرینڈ#زانی پجاری میں حصہ لیتے نہیں دیکھا رہا ہوں۔ ‘‘ دیگر صارفین نے اُڈپی چکمگلور کی ایم پی شوبھا کرند لا جے سے اس واقعہ پر لب کشائی کا مطالبہ کیا۔ ایک اور نے لکھا کے زانی پجاری ۔ کیوں کہ ہم ہندوستانی اب بھی نیٹ فلکس اور تنشق کو بائیکاٹ کرنے میں مصروف ہیں۔

ایک صارف نے ریاستی حکومت کو واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کرناٹک کو ایک اور اُتر پردیش بننے سے روکنے کی اپیل کی۔ ایک صار ف نے لکھا کہ ہندوستان عصمت ریزی سے پاک ملک کب بنے گا؟ ان سب سے ہم بیمار اور تھک چکے یں۔ دریں اثناء کچھ دیگر صارفین نے اس ے ’’چنندہ برہمی ‘‘ قرار دیتے ہوئے مولویوں اور عیسائی پادریوں کی بھی عصمت ریزی کے کیسس میں گرفتاری کی نشاندہی کی اور کہا کہ جرم کا مذب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔


Share: