نئی دہلی،14 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے بلند شہر میں ہوئی گؤکشی کے معاملے میں انتظامیہ نے بڑی کارروائی ہے۔بلندشہرمیں ہوئی مبینہ گؤکشی میں تین ملزمان پر قومی سلامتی ایکٹ (قومی سلامتی قانون) لگا دیاہے۔گؤکشی کے ملزمان میں اظہرکے بیٹے تقی خاں، ندیم ،بابو خاں اورمحبوب علی کے بیٹے عبدالمعروف کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے ۔3 دسمبر کو گؤکشی کی اطلاع کے بعد بھاری تشدد ہواتھا۔اس دوران انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ اور ایک شہری سمت کی موت ہو گئی تھی۔اس واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑدیاتھا۔حکومت نے واقعے کی تحقیقات کرنے کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی تھی۔ٹیم نے اپنی جانچ میں کہا تھا کہ تشدد سے پہلے علاقے میں مبینہ طورپرپرگؤکشی کی گئی تھی۔ اس کیس میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ایک گاؤں کے کھیت میں محدود جانوروں کی باقیات پائی گئی تھی۔اس سے پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ مشتعل لوگ پاس ہی کے چگراوٹھ تھانے پہنچ گئے تھے۔اس کے بعد ہجوم نے پورے علاقے میں جم کر فساد مچایاتھا۔ فسادیوں نے تھانہ پھونکنے کے علاوہ کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی تھی۔ علاقے کے انسپکٹر سبودھ کمار کی گولی مار کر قتل کر دیاگیاتھا۔ بعد میں ہوئی جانچ میں یہ بھی دعویٰ کیاگیاہے کہ کچھ لوگوں نے انسپکٹر پر کلہاڑی سے بھی وار کیا تھا۔پولیس نے اس معاملے میں چار افراد کو گرفتار کیاتھا۔سب نے گؤکشی کی بات مان بھی لی تھی۔ اب حکومت نے تین لوگوں کے خلاف این ایس اے لگا دیا ہے۔تشدد کے معاملے میں پولیس نے ایک ماہ بعد 3 جنوری 2019 کو اہم ملزم بجرنگ دل کے ضلع کنوینر یوگیش راج کودبوچاہے۔ اس پربھیڑ کو تشددکے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ یوگیش راج کے نام سے آج بلند شہر میں مکر سنکرانتی کی مبارک دینے کے پوسٹرلگے ہیں جو بحث میں ہے۔ اس سے پہلے پولیس نے ایک فوجی کو اہم ملزم قرار دیتے ہوئے حراست میں لیاتھا۔