ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بجٹ 2019: جن کی آمدنی پانچ لاکھ تک، صرف انہیں ہوگی 13,000روپے کے انکم ٹیکس کی بچت

بجٹ 2019: جن کی آمدنی پانچ لاکھ تک، صرف انہیں ہوگی 13,000روپے کے انکم ٹیکس کی بچت

Fri, 01 Feb 2019 22:03:08    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات 2019 سے چند ہی ماہ پہلے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے اپنے آخری بجٹ کو ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں مندرجہ ذیل درمیانہ طبقہ کو بڑی راحت دینے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن یہ راحت اگلے مالی سال، یعنی2019-20 سے نہیں، 2020-21سے نافذ کی جائے گی۔

وزیر خزانہ کے طور پر آخری بجٹ 2019 پیش کرتے ہوئے پیوش گوئل نے اعلان کیا کہ اب پانچ لاکھ روپے تک کی آمدنی والے لوگوں کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا ہوگاحالانکہ آمدنی اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں موجودہ شرح سے ہی ٹیکس ادا کرناہوگا۔ اس اعلان سے ان تمام لوگوں کو کم سے کم 13,000 روپے کی بچت ہو گی، جن کی کل آمدنی پانچ لاکھ روپے یا اس سے کم ہو گی۔اب تک ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک کی آمدنی پر پانچ فیصد ٹیکس دینا پڑتا تھا۔پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ہونے کی صورت میں پانچ فیصد ٹیکس کی یہی شرح اب بھی نافذہوگی۔اس کے علاوہ گزشتہ دو سالوں کی طرح 1 فروری کو ہی پیش کئے گئے بجٹ میں وزیر خزانہ نے گزشتہ سال طبی اور نقل و حمل کے اخراجات کے نام پر شروع کی گئی معیاری کٹوتی کو بھی 40,000روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کر دیا ہے، جو سب پر نافذ ہوگی۔

انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 80 سی کے تحت سرمایہ کاری پر ملنے والی ٹیکس چھوٹ کی حد کو نہیں بڑھا یا گیا ہے، اور وہ اب بھی ڈیڑھ لاکھ روپے ہی ہے، اگر آپ کلکولیٹ کرکے دیکھیں، تو اب ایسا کوئی شخص، جس کا 80 سی میں سرمایہ کاری ڈیڑھ لاکھ روپے ہے، اور جس نے 10,000روپے بینک سے سود کے طور پر حاصل کئے ہیں، اسے 6,60,000 روپے تک کی کل آمدنی ہونے پر کوئی ٹیکس نہیں دیناگا۔بتایا جا رہا ہے کہ انتخابی بجٹ ہونے کے علاوہ اس فیصلے میں اس حقیقت کا بھی دخل ہے کہ کچھ ہی وقت پہلے بی جے پی تین اہم ریاستوں میں کانگریس کے ہاتھوں اقتدار گنوا چکی تھی، اور اب ان کے پاس درمیانے طبقے کو لالچ دینے کے علاوہ زیادہ اختیارات بچے نہیں تھے۔اسی مقصد سے کچھ ہی دن پہلے افراتفری میں مرکزی حکومت نے اعلی ذاتوں کے اقتصادی طور پر کمزور لوگوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم کے میدان میں 10 فیصد ریزرویشن دینے کا بل بھی منظور کروایا تھا۔اس نئے قانون میں ریزرویشن کا مستحق ہونے کے لئے جن شرائط کا ذکر تھا، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ امیدوار کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ نہ ہو۔لیکن اپوزیشن نے اس مسئلے کو لے کر حکومت کی سخت تنقید کی کیونکہ انکم ٹیکس کی موجودہ شرح کے مطابق، آٹھ لاکھ روپے کی آمدنی والوں سے 20 فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا تھا کہ جو شخص آپ کی کمائی کا پانچواں حصہ انکم ٹیکس کے طور پر حکومت کو دے رہا ہے، وہ اقتصادی طور پر کمزور کس طرح سمجھا جا سکتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں جسے حکومت ریزرویشن قانون میں ’غریب‘ بتا رہی ہے، اس سے وہ 20 فیصد ٹیکس کس طرح لے سکتی ہے۔سو، اب اگر کوئی شخص بینک سے ملنے والے سود سمیت کل 6,60,000 روپے کما رہا ہے، اور 80 سی کے تحت ڈیڑھ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے، تو اسے قطعی کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔باقی بھارتی ٹیکس دہندگان کے لئے انکم ٹیکس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، سو ڈھائی لاکھ روپے سے پانچ لاکھ روپے تک پانچ فیصد،پانچ لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 20 فیصد، اور 10 لاکھ روپے سے زائد کی آمدنی پر اب بھی 30 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔


Share: