ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / این سی بی پر پھر اُٹھے سوال؛ ایک سال میں پانچ ڈرگس کیس کے معاملات لیکن ہر کیس میں ایک جانا پہنچانا شخص رہاگواہ

این سی بی پر پھر اُٹھے سوال؛ ایک سال میں پانچ ڈرگس کیس کے معاملات لیکن ہر کیس میں ایک جانا پہنچانا شخص رہاگواہ

Sat, 30 Oct 2021 21:06:15    S.O. News Service

ممبئی، 30اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) ایک طرف آرین  خان کو آج  آرتھر روڈ جیل سے رہا ئی نصیب ہوئی وہیں اس پورے معاملہ میں این سی بی کی کارروائی پر سوالات اٹھتے رہے۔ایک طرف آرین خان کی گرفتار کے بعد سے ہی   این سی پی لیڈر نواب ملک  این سی بی کے ژونل ہیڈ سمیر وانکھیڑے پر غلط کارروائی کرنے کا الزام عائد کرتے آرہے تھے۔ لیکن اب نارکوٹکس بیورو پر بھی ایک نیا سوال کھڑا ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے ایک سال میں منشیات سے متعلق 5 مقدمات درج کئے تھے،تاہم ہر کیس میں عادل فضل عثمانی نامی شخص کو ہی بطور گواہ پیش کیا گیا ہے۔ عادل فضل عثمانی بھی کورڈیلیا کروز شپ کیس میں این سی بی کے 10 گواہوں میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ کے پی گوساوی اور منیش بھانوشالی کو لے کر بھی این سی بی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گوساوی اب پولیس کی حراست میں ہے، جب کہ بھانوشالی کے بی جے پی سے تعلقات ہیں۔ وہیں ایک گواہ پربھاکر سیل نے سمیر وانکھیڑے پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ایک کورے کاغذ پر دستخط کروائے۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق این سی بی حکام نے کہا ہے کہ انہیں صرف  ایسے جانے پہچانے گواہوں کے پاس جانا پڑتا ہے، کیونکہ منشیات کے چھاپوں کے دوران لوگ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے آگے آنے سے کتراتے ہیں۔ اس حوالے سے عدالت کہتی رہی ہے کہ ایسے گواہوں کو بار بار استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پولیس کے انگوٹھے کے نیچے ہیں اور انہیں آزاد گواہ نہیں سمجھا جا سکتا۔عثمانی، گوساوی، بھانوشالی اور سیل کے علاوہ، این سی بی نے اوبرے گومز، وی وائی گنکر، اپرنا رانے، پرکاش بہادر، شعیب فیض اور مزمل ابراہیم کو کورڈیلیا کیس میں گواہوں کے طور پر نامزد کیا ہے۔ ان میں سے کچھ کورڈیلیا کروز کے سکیورٹی عملے کے ارکان ہیں۔

نواب ملک اس کیس کے آغاز سے ہی سمیر وانکھیڑے کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے وانکھیڑے کے معاملات  کو جھوٹا اور فرضی بھی کہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ این سی بی نے کروز سے صرف چند لوگوں کو حراست میں لیا، جبکہ باقی افراد کو جانے دیا۔ نواب ملک نے وانکھیڑے کا برتھ سرٹیفکیٹ پوسٹ کیا اور لکھا کہ سمیر داؤد وانکھیڑے ایک فرضی آدمی ہے۔ 


Share: