ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُترپردیش کے کانپور میں ٹیچر کے خلاف پرنسپل کو شکایت کرنا 15 سالہ طالبہ کو پڑ گیا مہنگا؛ طالبہ کو گولی مار کر ٹیچر ہوا فرار

اُترپردیش کے کانپور میں ٹیچر کے خلاف پرنسپل کو شکایت کرنا 15 سالہ طالبہ کو پڑ گیا مہنگا؛ طالبہ کو گولی مار کر ٹیچر ہوا فرار

Sun, 27 Oct 2019 01:03:21    S.O. News Service

کانپور 26/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)  اتر پردیش کے کانپور  میں آٹھویں  درجہ  کی طالبہ کو اپنے  ٹیچر کے خلاف پرنسپل سے شکایت کرنا اتنا مہنگا پڑ گیا کہ ظالم ٹیچر نے طالبہ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 15 سالہ طالبہ نے اسکول پرنسپل سے  اپنے 25 سالہ ٹیچر شیلندر سنگھ کے خراب رویہ کی شکایت کی تھی۔ چونکہ طالبہ کی شکایت کافی سنگین تھی اس لیے اسکول انتظامیہ نے ٹیچر کو اسکول سے نکالنے کا فیصلہ سنا دیا۔ مگر اسکول کے اس  فیصلے نے  شیلندر سنگھ کو مزید ظالم بنادیا اور اُس نے  اسکول سے گھر واپس لوٹنے کے دوران طالبہ کا پیچھا کرتےہوئے راستے میں ہی اُسے   گولی کا نشانہ بنا دیا۔ طالبہ خون میں لت پت سڑک پر تڑپتی رہی اور جب اسے اسپتال پہنچایا گیا تو علاج کے دوران اس نے دم توڑ دیا۔

کانپور  کے ایس پی انوراگ وَتس نے اس واقعہ کے تعلق سے بتایا کہ شیلندر سنگھ اسکول سے نکالے جانے کے بعد بھی 15 سالہ بچی کا پیچھا کیا اور 24 اکتوبر کی صبح اسے سڑک پر چلتے ہوئے گولی مار دی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ طالبہ کو اٹاوا پی جی آئی اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا تھا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ پولس کا کہنا ہے کہ ٹیچر اور اس کے ساتھ موجود ایک نامعلوم فرد کے خلاف قتل کا معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔

مقامی پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ایک اسکولی طالب علم بھی تھا اور تنہا وہی اس کیس کا چشم دید گواہ ہے۔ اس نے پولس کو بتایا کہ ملزم شیلندر ایک دیگر شخص کے ساتھ بائیک پر آیا تھا۔ طالب علم نے یہ بھی بتایا کہ شیلندر نے زبردستی لڑکی کو بائک پر بٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس کی مخالفت کرتی رہی۔ ناراض ملزم شیلندر سنگھ نے طمنچہ نکال کر طالبہ کی گردن میں گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔ وہاں سے گزر رہے لوگوں نے طالبہ کے گھر والوں کو واقعے کی خبر دی۔

بچی کی موت کی خبر سن کر علاقے کے لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ ناراض لوگوں نے بڑی تعداد میں اسکول پر پہنچ کر ہنگامہ بھی کیا۔ انھوں نے غصے میں کرسیاں توڑیں اور ملازمین کی پٹائی بھی کر دی۔ پولس نے موقع پر پہنچ کر کسی طرح حالات کو قابو میں کیا۔ دراصل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسکول کی بس خراب تھی جس کی وجہ سے طالبہ ایک طالب علم کے ساتھ اپنے گھر لوٹ رہی تھی۔ اسکول کی لاپروائی کی وجہ سے گاؤں والے کافی نارض نظر آرہے ہیں۔  ایس پی انوراگ وَتس نے ملزمین کی جلد گرفتاری کی یقین دھانی کرائی  ہے ۔ اُترپردیش میں جرائم کے واقعات میں روز بروز اضافہ سے  یوگی کی سرکار پہلے سے ہی نشانے پر ہے جبکہ  خواتین کے خلاف جرائم میں ریاست ملک بھر میں بدنام ہے۔ تازہ واقعے نے پھر ایک بار مودی اور یوگی سرکار کے بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو  نعرے کا پھر ایک بار پول کھول دیاہے۔


Share: