ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امیروں کو بھی احساس شرمندگی سے باہر نکل کر سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنے کا مشورہ،طبی خدمات کو تجارتی رنگ دینے کا رجحان خطرناک : روشن بیگ

امیروں کو بھی احساس شرمندگی سے باہر نکل کر سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنے کا مشورہ،طبی خدمات کو تجارتی رنگ دینے کا رجحان خطرناک : روشن بیگ

Thu, 28 Feb 2019 20:29:01    S.O. News Service

بنگلورو،28فروری( ایس او نیوز) سینئر رہنما و شیواجی نگر کے رکن اسمبلی آر روشن بیگ نے طبی خدمات کو تجارتی رنگ دینے کے رجحان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ اس سے غریب مریض پرائیوٹ اسپتال کا رخ کرنے سے خوف کھارہے ہیں۔ سمپنگی رام نگر ناگریکا سیوا سمیتی کی جانب سے کلیانی اسکول کے احاطے میں منعقدہ دو روزہ مفت طبی کیمپ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فارماسٹیکل کمپنیوں کے مافیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی معنوں میں یہ لوگ غریبوں کا استحصال کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں جنرک ادویات کو فروغ نہیں مل پارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے صرف ہوٹلیں فائیو اسٹار ہوا کرتی تھیں، مگر اب اسپتالوں کا مافیا سر اٹھا چکا ہے، جہاں پر مریض کو جن ٹیسٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ سب ٹیسٹ غیر ضروری طور پر کرائے جاتے ہیں، تاکہ افزود پیسے وصول کئے جائیں۔ اکثر مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بل کی رقم میں اضافے کے لئے مریض کی موت ہونے کے بعد بھی اسے تین چار دنوں تک وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے، اور رشتہ داروں سے کہا جاتا ہے کہ دعا کریں، اور آحر میں بل کی ادائیگی کے بعد نعش رشتہ داروں کے حوالے کی جاتی ہے۔ جناب روشن بیگ نے کہا کہ غریبوں کی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سابقہ حکومت کے دور میں بورنگ میڈیکل کالج کو منظوری دلائی ہے، جس کے تحت 200 کروڑ روپوں کی لاگت سے ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ یہاں پر 13 منزلہ عمارت کی تعمیر چل رہی ہے تو وہیں گوشہ اسپتال میں 11 منزلہ عمارت کی تعمیر کا کام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی شعبہ مقدس ہوتا ہے، اور چند لوگ تجارتیی مقصد کے تحت اس شعبے کے تقدس کو پامال کررہے ہیں۔ انہوں نے دعوے کے ساتھ کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں مریض کے غیر ضروری میڈیکل ٹیسٹ نہیں کرائے جاتے ہیں اور یہاں پر ماہر و تجربہ کار ڈاکٹرس موجود ہیں، جس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کے سب سے ماہر آرتھوپھیڈک ڈاکٹر منجوناتھ بورنگ اسپتال میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کی سبکدوشی کے بعد بھی انہیں مزید تین سالوں تک بحال رکھنے منظوری دلائی گئی ہے، اسی طرح سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے، جہاں غریبوں کو لوٹا بھی نہیں جاتا ہے۔ جناب روشن بیگ نے مزید کہا کہ امریوں کو پرائیوٹ اسپتالوں میں علاج کرانے کو اپنا وقار تصور کرلیا ہے، جو غلط ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ امیر لوگوں کی بھی چاہئے کہ وہ احساسا شرمندگی سے باہر نکل کر سرکاری اسپتالوں کا رخ کریں، اور بتایا کہ ریاست کے سینئر سیاستدان سابق وزیر رگھوپتی نے اس لئے پرائیوٹ اسپتال کے بجائے بورنگ اسپتال میں علاج کرانے کو ترجیح دی ہے۔ جناب روشن بیگ نے مقامی لوگوں کی درخواست پر کلیانی اسکول کے لئے اپنے یم یل اے فنڈ سے بورویل منظور کرنے کا اعلان کیا، اور تیقن دیا کہ وہ اپنے حلقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ترجیح دیں گے۔ اس موقعے پر میڈیا اکیڈمی چیئرمین سداراجو، بنگلورو سنٹرل ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر جی شیکھر کے علاوہ جگدیش، گوپی اور دیگر موجود تھے۔


Share: