حیدرآباد،20؍جنوری(ایس او نیوز) ایک ریاست ایک دارالحکومت کے مطالبہ پر اندھرا پردیش کے دارالحکومت امراوتی کے کسانوں اور خواتین کا احتجاج آج بدھ کو 400 ویں دن میں داخل ہو گیا۔ کسانوں کی جانب سے چلائی جارہی اس تحریک میں امراوتی کو ہی دارالحکومت کے طور پر برقرار رکھنے پر زور دیا جارہا ہے آج 400 ویں دن کی تکمیل پر امراوتی کے بہت سارے دیہاتوں میں بڑے پیمانہ پر ریلیاں نکالی گئیں۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آج مختلف حصوں میں نکالی گئی ریلیوں میں مختلف جماعتوں کے لیڈروں نے حصہ لیتے ہوئے کسانوں کی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کسانوں نے واضح کیا کہ جب تک حکومت امراوتی کو دارالحکومت کے طور پر برقرار رکھنے کا اعلان نہیں کرتی، یہ تحریک جاری رہے گی۔
احتجاجیوں نے حکومت کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ امراوتی کو انتظامی دارالحکومت کے طور پر برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے وائی ایس جگن موہن ریڈی کی زیرقیادت حکومت پر زور دیا کہ ریاست کے لئے تین دارالحکومتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت اس مسئلہ پر سنجیدہ نہیں ہے، 29 ہزار کسانوں نے 33 ہزار ایکڑ اراضی ریاست کے نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لئے دی ہے، وہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوئے ہیں۔
ریاستی حکومت پر اپنی برہمی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کا اس مسئلہ پر گٹھ جوڑ ہوگیا ہے۔ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امراتی کے مسئلہ پر غور کرے جس نے متحدہ اے پی کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر تلنگانہ کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاست کے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔