امبیڈکرنگر، یکم مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم بننے کے بعد ایک بار بھی نریندر مودی رام نگری ایودھیا نہیں گئے، لیکن بدھ کو وہ جب ایودھیا بارڈر سے ملحقہ امبیڈکر نگر پہنچے تو یہاں انہوں نے اپنے انتخابی تقریر کا آغاز اور اختتام بھگوان رام کے نام سے کیا۔تقریر کے آغاز میں انہوں نے ریلی کے مقام کومریادا پرشوتم رام کی زمین بتایا تو اپنی تقریر کا اختتام جئے شری رام کے نعرے لگوا کر کیا۔موجودہ انتخابی مہم کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب پی ایم مودی نے اسٹیج سے بھارت ماتا کی جے یا وندے ماترم کے علاوہ جے شری رام کا نعرہ لگوایا ہے۔ایودھیا کے بارڈر سے ملحقہ علاقے میں لوک سبھا انتخابات کے لئے ووٹ کی اپیل کرنے پہنچے مودی نے کہا کہ یہ مریادا پرشوتم رام کی زمین ہے، یہ خود داری کی سرزمین ہے اور گزشتہ پانچ سال میں اس کی خودداری اور بڑھی ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ بھگوان رام کے لئے کس طرح کے کام کئے جا رہے ہیں۔پی ایم مودی نے بتایا کہ ملک میں اب وطن درشن نام سے ایک جامع پروگرام چل رہا ہے،جس کے تحت ملک میں رامائن سرکٹ، کرشن سرکٹ، بدھ مت سرکٹ سمیت 15 سرکٹوں پر کام چل رہا ہے۔اس کے علاوہ پی ایم مودی نے یہ بھی بتایا کہ رامائن سرکٹ کے تحت اجودھیا سے لے کر رامیشورم تک، تمام مقامات کو تیار کیا جا رہا ہے،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب آسیان سربراہ اجلاس کے دوران، وہاں سے آئے فنکاروں اپنے اپنے ممالک میں مقبول رامائن کے اقتباس پیش کرتے ہیں، تو سب کی نظر جاتی ہے۔ایودھیا میں دیپ تو ہزاروں سالوں سے جل رہے ہیں، لیکن اب جو دیوالی منائی جاتی ہے، وہ دنیا بھر میں موضوع بحث بنتی ہے۔اتنا ہی نہیں بم دھماکوں کے بہانے بھی پی ایم مودی نے ایودھیا کو اپنے بیان میں شامل کیا۔پی ایم مودی نے کہاکہ 2014 سے پہلے ایودھیا، فیض آباد اور دیگر جگہ کیسے کیسے دھماکے ہوئے یہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں،وہ دن ہم کس طرح بھول سکتے ہیں جب آئے دن ہندوستان میں حملہ ہوتا تھا لیکن گذشتہ پانچ سالوں میں اس طرح کے دھماکوں کی خبر آنی بند ہو گئی ہیں۔اس طرح پی ایم مودی نے اپنی امبیڈکر نگر ریلی میں ایودھیا اور بھگوان رام کا نہ صرف ذکر کیا بلکہ اپنے ساتھ عوام سے جے شری رام کے نعرے بھی لگوائے۔