نئی دہلی،یکم دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے حال میں گجرات کے پرائیویٹ کووڈ اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات سے متعلق ’باتوں کو دبانے کی کوششوں‘ پر ریاستی حکومت کو زبردست پھٹکار لگائی ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت عظمیٰ نے راجکوٹ کے ایک نجی کووڈ اسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ پر نوٹس لیا تھا، جس میں 5 لوگوں کی دردناک موت ہو گئی تھی۔
جسٹس اشوک بھوشن کی صدارت والی بنچ نے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے گجرات حکومت کے وکیل سے کہا کہ ’’ہم نے آپ کا جواب سنا ہے۔ آپ کے مطابق سب کچھ اچھا ہے۔ ابھی تک ریاست کے اسپتال میں سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘ وہیں جسٹس شاہ نے گجرات حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’’جہاں تک کمیشن (آتشزدگی واقعہ کی جانچ کرنے کے لیے) کا سوال ہے، وہ بھی ختم ہو گیا ہے اور اسپتال میں وائرنگ کی حالت کے سلسلے میں ریاستی حکومت کا اسٹینڈ آپ کے خود کے چیف الیکٹریکل انجینئرنگ افسر کے اسٹینڈ کے برعکس ہے۔‘‘
آتشزدگی معاملہ میں بنچ نے احمد آباد میں آگ کے واقعہ کی مثال دی، جہاں ایک کووڈ اسپتال میں آگ لگنے کے سبب 8 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ باتوں کو دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بنچ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سے معاملے کو دیکھنے اور اس بابت ایک مناسب رپورٹ داخل کرنے کے لیے کہا۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کی سماعت جمعرات کے لیے طے کر دی۔
بتا دیں کہ گزشتہ سماعت میں 27 نومبر کو عدالت عظمیٰ نے راجکوٹ کے ایک پرائیویٹ کووڈ اسپتال میں آگ لگنے کے واقعہ کا نوٹس لیا تھا۔ اس واقعہ میں پانچ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اس بابت یکم دسمبر تک مرکز اور گجرات سے جواب مانگا تھا۔
بشکریہ: قومی آواز