بنگلورو، 19؍ اپریل ( ایس او نیوز ) اب تک مختلف ترقیاتی کاموں کے لئے کنٹراکٹروں سے ریاستی حکومت کی طرف سے 40 فیصد کمیشن کی مانگ کو لے کر الزامات موضوع بحث رہے ہیں ۔
پیر کے روز یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاستی حکومت نے مختلف مٹھوں اور مندروں کو خوش کرنے کے لئے بجٹ میں ان کو جن فنڈس کا اعلان کیا ، اس میں بھی وہ 30 فیصد کمیشن کی مانگ کر رہی ہے ۔ یہ انکشاف بالے ہوسور مٹھ کے دنگلیشو را سوامی نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کی یہ روایت موجودہ فی ہے حکومت میں ہی نہیں بلکہ ہر حکومت کے دور میں رہی ہے ۔ مٹھوں کو حکومت کی طرف سے جو بھی رقم ملتی ہے وہ کمیشن کٹنے کے بعد ہی ادا کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فنڈس کی رقم کے استعمال کے متعلق نو آبجکشن سرٹیفکیٹ کے لئے بھی کمیشن ادا کرنا پڑتا ہے ۔
ریاستی وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی اور مرکزی وزیر پر ہلاد جوشی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تمام کی سر پرستی سے ہی ریاست میں کمیشن کا دھندہ زوروں سے چل رہا ہے۔سابق وزیرا علیٰ سدارامیا نے اس سلسلہ میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ کو مٹھوں اور مندروں کی محافظ قرار دینے والی بی جے پی کی حکومت اگر انہی مٹھوں اور مندروں کو دی جانے والی مالی امداد کے عوض کمیشن مانگتی ہے تو اس سے زیادہ شرم کی بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مٹھوں کے لئے کمیشن میں 10 فیصد رعایت کیوں دی گئی ہے ،حکومت کو ان سے بھی 40 فیصد ہی کمیشن لینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی بھگوان سے بھی کمیشن وصول کر کے کھانے پر اتر آئی ہے ۔
کانگریس کے دور میں کرپشن کے الزامات کے دستاویزات منظر عام پر لانے وزیرا علیٰ بسواراج بومئی کے چیلنج پر سدارامیا نے کہا کہ خالی ٹوکری رکھ کر پنگی بجانے کی بجاۓ دستاویزات منظر عام پر لائیں ۔
اس دوران وزیر داخلہ ار گا گیا نیندرا نے کہا کہ مٹھوں کو دیئے جانے والے فنڈس میں کمیشن کی مانگ کئے جانے کا الزام بے بنیاد ہے ،اس میں کوئی صداقت نہیں ۔ اگر کسی مخصوص معاملہ میں شکایت کی جاۓ تو حکومت اس پر کارروائی کے لئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنگلیشو رسوامی کو اس کا نام بتانا چاہئے جس نے ان سے کمیشن مانگا ۔ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جاۓ گی ۔