نئی دہلی،25؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) چار سال سے قانونی لڑائی لڑ رہے متاثرہ کے والد نیکہا ک مجھے کورٹ نے انصاف دیا ہے اور مجرموں کو سزا ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں کتنی مرتبہ دھمکی ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ہماری انصاف کی لڑائی میں سب سے زیا دہ اہم کردار ادا کیا ہے خواتین تنظیموں نے میں ان کا شکرمند ہوں ۔ابھی کورٹ نے آسارام کو مجرم قرار دیا ہے ، اور عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔جن گواہوں کو اس درمیان مارا گیا یہ پھر اغوا کرایا گیا ہے ۔ ان سب کی آج جیت ہوئی ہے اور ان سب کو اس فیصلہ سے انصاف مل گیا ہے ۔ متاثرہ کے والد نے کہا کہ ہم نے کیا کیا پریشانی جھیلی ہے آپ سب کے بارے میں جانتے ہیں۔ گھر سے باہرہم نکلے نہیں ہیں پولیس کا صخت پہرا ہے ۔ کتنی ہی بار ہمیں دھمکیاں ملی ہیں ، ہم آپ کو بتا نہیں سکتے۔قبل ذکر، راجستھان میں جودھپور کی عدالت نے گروکل کی ایک نابالغ لڑکی کی جنسی استحصال کے ملزم کتھا واچک (کہانی سنانے والا)آسارام اور اس کے دو خدمت گذاروں کو مجرم قرار دیا تھا۔ سخت سیکورٹی کے درمیان مرکزی جیل میں بنائی گئی عارضی عدالت میں درج فہرست ذات و قبائل ایکٹ عدالت کے جج مدھو سودن شرما نے آسا رام اور اس کے دو خدمت گزاروں(سیواداروں)شلپی اور شرت چندر کو نابالغ کے جنسی استحصال کرنے کا قصوروار مانا۔